|

وقتِ اشاعت :   3 days پہلے

گوادر: حق دو ماہیگیر کے دعوے دم توڑ گئے، سمندر میں ٹرالر مافیا بدستور مضبوط،انتخابی دعوے ہوا ہو گئے، گوادر کے ماہی گیر محرومی اور ناانصافی کا شکار ،ماہی گیروں کے حقوق پر سیاست، عملی اقدامات صفر ، ماہیگیروں کا اعتماد متزلزل، رواں ہفتے گوادر ضلع بھر میں ٹرالز کی یلغار سے ماہیگیر شدید مایوس،سی پیک شہر گوادر میں غیر قانونی ٹرالنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ٹرالر مافیا نے کھلے عام سمندری حدود میں دھاوا بول کر مقامی ماہی گیروں کے روزگار اور سمندری حیات دونوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ بااثر ٹرالرز جدید مشینری کے ذریعے نہ صرف بڑی مقدار میں مچھلی کا شکار کر رہے ہیں بلکہ کم عمر مچھلی اور دیگر نایاب آبی حیات کی بھی بے دریغ تباہی کا سبب بن رہے ہیں، جس سے سمندری ایکو سسٹم تیزی سے تباہ ہو رہا ہے۔مقامی ماہی گیروں نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے وعدے محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے ہیں۔

ان کا الزام ہے کہ منتخب نمائندوں، بالخصوص ایم پی اے گوادر کی جانب سے “حق دو ماہی گیر کو” اور ٹرالر مافیا کے خاتمے جیسے پرجوش نعرے عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ ماہی گیروں کے مطابق یہ نعرے محض انتخابی مہم تک محدود رہے اور اب زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔متاثرہ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ٹرالر مافیا کی سرپرستی اور عدم کارروائی نے انہیں معاشی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر شکار میں واضح کمی آ چکی ہے،

جبکہ ایندھن اور دیگر اخراجات میں اضافے نے ان کی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف ہزاروں خاندانوں کا روزگار ختم ہو جائے گا بلکہ گوادر کا سمندری ماحولیاتی نظام بھی ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہو جائے گا۔ماہی گیروں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے، سمندری حدود کی سخت نگرانی کو یقینی بنایا جائے، اور مقامی ماہی گیروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور پائیدار پالیسی مرتب کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب وہ صرف نعروں نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *