کوئٹہ: سینئر سیاست دان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی آڑ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو یہاں لاکر مسلط کرکے صوبے کے سیاسی، قومی تاریخی حقوق غصب کیے جارہے ہیں، جس سے تاریخ میں ہمارا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا،
بلوچستان کے لوگوں کو اپنے مستقبل سے متعلق تشویش ہے، لوگوں کو نظام پر اعتماد نہیں، جس طریقہ سے حکومتیں تشکیل دی اور الیکشن کا ڈھونگ رچایا گیا اس پر ہم سب کا عدم اعتماد ہے،
یہ بات انہوں نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کے بعد سینئر قانون دان محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ، بیرسٹر محمدا قبال کاکڑ کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے سماعت کے موقع پر سینکڑوں سیاسی کارکنوں کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر سماعت پر بلوچستان کے طول وعرض سے سیاسی کارکن یہاں پہنچتے ہیں،مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بلوچستان اسمبلی سے خاموشی سے پاس ہوا اور اس پر مسلسل خاموشی سے ایسا لگ رہا ہے کہ اس نوآبادیاتی نظام کے تحت بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کیا جارہا ہے، اس قانون کے خلاف ہم مزاحمت کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمیں مصنوعی نظام پر اعتماد نہیں،
عدالت سے استدعا کی ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر کی سربراہی میں جو ٹیکنیکل کمیٹی قائم کی گئی ہے اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ایسا نہ ہو کہ ہم اس کمیٹی میں اپنی تجاویز پیش کریں اور اس کی کوئی اہمیت نہ ہو اور دوبارہ ایسا ہی قانون تشکیل دیا جائے، انہوں نے کہا کہ شنید میں ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا مسودہ اسلام آباد میں بناکر یہاں سے منظور کیا گیا انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ صوبائی اسمبلی اور متعلقہ قائمہ کمیٹی سے بلوچستان کے عام لوگوں کو انصاف نہ ملا اور قانون میں ترمیم صوبے کے مفادات کے برعکس ہو ئی تو اس کے خلاف ہر فورم پر جائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو جس اسمبلی نے پاس کیا
ہماری جدوجہد کے نتیجے میں دوبارہ اسی اسمبلی میں ایکٹ کو ترمیم کیلئے لایا گیا ہے، اب حکومت اور اپوزیشن کی ذمہ داری ہے ایکٹ میں ترمیم کرکے بلوچستان کی آئندہ نسلوں کے مفادات کا تحفظ کریں، ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات، بات چیت کے ذریعے صوبے کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں،ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ اس ایکٹ کی آڑ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو یہاں لاکر مسلط کیا اور ہمارے لوگوں کے سیاسی، قومی تاریخی حقوق غصب کیے جارہے ہیں، جس سے تاریخ میں ہمارا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔
بیرسٹر محمد اقبال کاکڑ ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران حکومت نے ایک پٹیشن کو دیکھ کر جواب جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے ایک کمیٹی قائم ہوئی ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں اور مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کرنے والے درخواست گزار ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے اپنی تجاویز جمع کرائیں گے،
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور قیادت کے درمیان ابہام پیدا کرنے کیلئے حکومت نے ایک دعوت نامہ ارسال کیا کہ آپ کمیٹی سے رجوع کریں، ایک دعوت نامہ اپوزیشن لیڈر کی طرف سے آیا کہ 15اپریل کو اسمبلی آکر تشکیل دی گئی کمیٹی میں شریک ہوں ہم اپوزیشن لیڈرکی دعوت پر اس اجلاس میں گئے جہاں یہ طے پایا کہ ترامیم کو دیکھنے کیلئے ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی جائے گی، 18 اپریل کو ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں میں نے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کی نمائندگی کی میرا اعتراض تھا کہ جس کمیٹی کے اجلاس میں ہم شریک ہیں آیا اس کی کوئی قانونی حیثیت ہے اس کا جواب نہ میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں بلوچستان کے لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں صوبے کے اجتماعی قومی مفادات کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
Leave a Reply