|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

نیٹو کا کہنا ہے کہ فوجی اتحاد سے کسی رکن ملک کو معطل یا خارج کرنے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ایران جنگ سے متعلق مؤقف پر امریکہ سپین کی رکنیت معطل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ پینٹاگون کی ایک اندرونی ای میل میں ایسے اتحادیوں کو سزا دینے کے اقدامات پر غور کیا گیا جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ انھوں نے امریکی فوجی مہم کی حمایت نہیں کی۔

اس ای میل میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع فاک لینڈ جزائر، جن پر برطانیہ کا دعویٰ ہے اور جن پر ارجنٹینا بھی حق جتاتا ہے، کے حوالے سے برطانیہ کی حمایت پر بھی نظرِ ثانی کی جائے۔

نیٹو کے ایک عہدیدارنے بتایا کہ اتحاد کے قیام کے بنیادی معاہدے میں ’نیٹو کی رکنیت معطل یا ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں‘۔

سپین کے وزیرِاعظم نے بھی اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بارہا نیٹو اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ فروری کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے اہم تجارتی راستے سے جہازرانی محدود کر دی۔

سپین نے ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین پر واقع فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سپین میں امریکہ کے دو فوجی اڈے ہیں۔

سپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ای میلز کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتے۔ ہم سرکاری دستاویزات اور امریکی حکومت کے باضابطہ مؤقف کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ سپین ’بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، اپنے اتحادیوں کے ساتھ مکمل تعاون‘ کا حامی ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ جنگ میں مزید شمولیت یا ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برطانیہ کے مفاد میں نہیں۔ تاہم، برطانیہ نے امریکی افواج کو ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، اور رائل ایئر فورس کے طیاروں نے ایرانی ڈرون مار گرانے کی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔

برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی یا جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے تیار ہوں گے۔

گذشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سے متعلق کہا تھا کہ ’ہم ان کی حفاظت کرتے ہیں، لیکن وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔‘

جمعے کے روز اطالوی وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ متحد رہیں۔ انھوں نے کہا کہ نیٹو ’طاقت کا ذریعہ‘ ہے۔

قبرص میں یورپی یونین کے اجلاس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ہمیں نیٹو کے یورپی ستون کو مضبوط بنانا ہوگا، جو امریکی کردار کی تکمیل کرے، اس کا متبادل نہیں۔‘

جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ سپین کی نیٹو رکنیت پر کوئی سوال نہیں۔ انھوں نے برلن میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’سپین نیٹو کا رکن ہے، اور مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ تبدیل ہو۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *