|

وقتِ اشاعت :   November 2 – 2018

راولپنڈی: جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔ 

راولپنڈی کے علاقے تھانہ ائیرپورٹ کے علاقے میں جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ مولانا سمیع الحق کے قریبی ساتھی اور واقعے کے وقت ان کے ساتھ موجود مولانا احمد شاہ نے ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا سمیع الحق آج ہی نوشہرہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ( کے سفاری ون) آئے تھے اور حملے کے وقت سوسائٹی  کے اندر ہی موجود تھے کہ چند نامعلوم افراد نے مولانا پر چاقوؤں سے حملہ کردیا ، انہیں فوری طور پر قریبی نجی اسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

وزیراعظم کا مولانا سمیع الحق کے قتل کی فوری تحقیقات کا حکم

وزیراعظم عمران خان نے مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم  نے مولانا سمیع الحق پر حملے کے افسوس ناک واقعے کی آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے فوری تحقیقات کرنے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کی ہدایت کردی۔

مولانا سمیع الحق کی زندگی پر ایک نظر

مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 کو نوشہرہ کے علاقہ اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے، مولانا سمیع الحق مذہیبی اسکالرا ور جے یو آئی (س) کے مرکزی صدر اور قائد تھے۔ وہ 1985 سے 1991 تک ممبر سینیٹ رہے اور 1991 سے 1997 تک دوسری بارسینیٹ کے ممبر رہے۔ مولانا سمیع الحق دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین، متحدہ مجلس عمل کے بانی رکن اور حرکت المجاہدین کے بانی بھی تھے۔