|

وقتِ اشاعت :   November 30 – 2018

کراچی: صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے کہ 100روزہ پلان یہ نہیں تھا کہ فوری تبدیلی آ جائے گی، اہم معاملات کی وجہ سے جنوبی پنجاب صوبے پربات آگے نہیں بڑھ سکی،پاکستان کے مثبت اقدام پر بھارتی رویہ مایوس کن ہے،بھارت اوپرسے کچھ اور اندرسے کچھ اور ہے، 20سال ہوگئے۔

بھارتی رویے میں تبدیلی نہیں آئی، بھارت میں عوام کی اکثریت میں مسلم منافرت پائی جاتی ہے،کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد اہم قدم ہے۔نجی ٹی وی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے صدرعارف علوی نے کہاکہ جو کام اسرائیل نے فلسطین کے ساتھ کیا، بھارت وہی پاکستان سے کر رہا ہے۔

کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے میں بھارت بھی ملوث ہوسکتا ہے، بھارت کا بلوچستان میں انتشارپھیلانے میں بھی ہاتھ رہاہے، کلبھوشن کو پاکستانی عدالتی نظام سے گزار کر سزائے موت تک پہنچانا چاہیے، میرے پاس کلبھوشن کی رحم کی اپیل آئی، تو حکومت جومشورہ دے گی، وہ کروں گا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستانی سیاست میں مودی کایارجیسے نعرے عوام میں جلدی مقبول ہوتے ہیں، ہماری حکومت بھارت سے امن کیلئے بیتاب ہے، کرتار پور کے معاملے پرپاکستان نے بہت اچھا اقدام کیا۔ 

ایک سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ وہ حکومت کو10میں سے9نمبردیں گے، 100روزہ پلان یہ نہیں تھا کہ فوری تبدیلی آ جائے گی، اہم معاملات کی وجہ سے جنوبی پنجاب صوبے پربات آگے نہیں بڑھ سکی۔ نیا صوبہ بنانا آسان کام نہیں،امید ہے کہ اس حکومت کے آدھے دورتک نیاصوبہ بن جائے گا۔

عارف علوی نے کہا کہ ممکن ہے عمران خان کی پرویزالہی کے بارے میں رائے اب تبدیل ہوگئی ہو، خواہش تھی پارلیمنٹ لاجزمیں رہوں، مگراسپیکر نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں۔انھوں نے کہا کہ زرداری صاحب سے متعلق جومیری پارٹی کاموقف ہے وہی میرا ہے،زرداری صاحب کے زمانے کی طرح اب ایوان صدرسیاسی سرگرمیوں کامرکزنہیں، زرداری صاحب نے58ٹو بی کاخاتمہ کرکے اچھا کام کیا، اٹھارویں ترمیم کی کچھ چیزوں کوبہتربنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

صدرپاکستان نے کہا کہ پی ٹی وی پر جس نے بھی حملہ کیا غلط کیا، اسے سزا دینی چاہیے۔صدر پاکستان نے کہا کہ میرے لئے دو کمروں کا گھر ہی کافی تھا، ایوان صدر کے رہائشی حصے میں کفایت شعاری سے رہ رہا ہوں، فیصلہ کیا ہے کہ ذاتی دوروں پرسرکاری خزانہ استعمال نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہاکہ وفاق اورصوبوں کے درمیان پل کا کردار ادا کروں گا، صدر نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے استثنی نہیں ملناچاہیے، ہم ہمیشہ پرتشدد ایم کیو ایم کے خلاف رہے۔