|

وقتِ اشاعت :   January 12 – 2019

کوئٹہ: وفاقی حکومت نے معدنی وسائل کی تلاش وترقی کے منصوبوں اور اس حوالے سے مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں میں بلوچستان کے حق اور اختیارات تسلیم کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ معدنیات کی تلاش وترقی کے معاہدوں میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جائے گا اور صوبے کے معدنی وسائل سے مختلف مدات میں حاصل ہونے والی آمدنی سے بلوچستان کو اس کا پورا حصہ دیا جائے گا ۔

جبکہ وفاقی وصوبائی حکومت نے صوبے کی معدنیات کی تلاش وترقی کے منصوبوں اور معاہدات سے متعلق تمام امور کو باہمی اتفاق رائے سے طے کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ وفاقی وصوبائی حکام پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جوائنٹ ورکنگ گروپ سوئی مائننگ لیز ،لائسنسنگ زونز اور 18ویں ترمیم، پٹرولیم پالیسی اور آئین کے آرٹیکل3) 172( اور 158 کے تحت بلوچستان کے حقوق کے تحفظ سمیت دیگر متعلقہ امور طے کرے گی اور اس ضمن میں بلوچستان کے تحفظات کو دور کیا جائے گا، ورکنگ گروپ ایک ماہ کے اندر تمام امور طے کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔

اس بات کا فیصلہ جمعہ کے روز وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ، وفاقی وزیر پٹرولیم چوہدری غلام سرور خان، ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر خان موسیٰ خیل، صوبائی وزراء میر نصیب اللہ مری، میر ظہور احمد بلیدی، میر سلیم خان کھوسہ، میر عمر خان جمالی، میر ضیاء اللہ لانگو، زمرک خان اچکزئی، نورمحمد دمڑ، رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی، متعلقہ صوبائی سیکریٹریز اور وزارت پٹرولیم کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں سوئی مائننگ لیز کی توسیع، پٹرولیم پالیسی اور آئین کی متعلقہ شقوں کے تناظر میں صوبائی حکومت کے اختیارات، معدنیات کے حامل علاقوں میں مائننگ اور ایکسپلوریشن کے لائسنسوں کے اجراء اور معاہدات کے طریقہ کار اور ان مدات میں حاصل ہونے والی آمدنی میں بلوچستان کے حصے ، ایل پی جی پلانٹس کی تنصیب کے منصوبے ، سیندک منصوبے کے لئے مائننگ ایریا کی توسیع، بلاک 28 میں معدنیات کی تلاش وترقی کے منصوبے، صوبے کے مختلف علاقوں میں گیس پریشر اور گھریلو صارفین کے لئے گیس کے نرخ میں کمی، پی ایم ڈی سی سے متعلق امور، اوجی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور گیس کی تقسیم کار کمپنیوں میں بلوچستا ن کی نمائندگی اور ان اداروں میں بلوچستان کے لوگوں کو روزگار کی فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو ایک بلاک میں مائننگ کے حقوق دیئے ہیں تاہم ہماری خواہش ہے کہ مزید دو بلاک کے حقوق صوبائی حکومت کو دیئے جائیں کیونکہ جن علاقوں میں ایکسپلوریشن کا آغاز ہوتا ہے وہاں پر روزگار کے مواقع اور معاشی سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف وفاق اور صوبے میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت باہمی تعاون کی ایک اچھی مثال قائم کریں گی، ہمیں کشادہ دلی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں فیصلے کئے جاتے تھے لیکن اب جو بھی فیصلے ہوں ان پر عملدرآمد ہونا چاہئے، وفاق تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلے تو وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلاف کا تاثر پیدا نہیں ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر صوبے کے مختلف اضلاع میں ایل پی جی پلانٹس کی تنصیب کے منصوبے کی جلد تکمیل پر زور دیا، وفاقی وزیر پٹرولیم نے وزیراعلیٰ کے موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اوجی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو معدنیات کی تلاش وترقی کے منصوبوں اور معاہدات میں صوبائی حکومت کے ساتھ شراکت داری کا پابند کیا جائے گا اور بلوچستان کے حقوق ومفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ 

دریں اثناء وفاقی وزیر برائے پٹرلیم ڈویژن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، نیب جسے بھی بلائے گا اسے وضاحت کے لئے جاناہوگا ، ملک میں بلاتفریق احتساب ہورہا ہے ،کابینہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے کسی کا بھی نام ای سی ایل سے نکالنے کا تحریری حکم نامہ نہیں ملا ۔

پاکستا ن کے کسی بھی حصے میں کوئی بھی کسی کا داخلہ بند نہیں کرسکتا، پٹرلیم ڈویژن کے ماتحت تمام کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صوبوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جائیگی ،آئندہ ماہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان متوقع ہے ،بلوچستان میں ایل پی جی گیس کے 26پلانٹ لگانے کے ٹیڈرز کر نے جارہے ہیں ۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال اور صوبائی وزراء و اراکین صوبائی اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ،وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ لین دین جمہوریت کاحسن ہے لیکن ان دوجماعتوں جنہوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے ان سے کسی بھی قسم کا لین دین نہیں ہوسکتا ،بلاول بھٹو زرداری سمیت کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے کابینہ کو سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ نہیں ملا ۔

سندھ کے وزیر کی جانب سے کچھ وزراء کے داخلے کو بند کرنے کی بات سیاسی بیان ہے پاکستان میں کوئی کسی کا داخلہ بند نہیں کرسکتا ،انہوں نے کہا کہ ہم نے خود کو احستاب کے لئے پیش کیا ہے نیب خود مختار ادارہ ہے سپریم کورٹ بھی اپنا کام کر رہی ہے جو کوئی بھی بدعنوانی کے زمرے میں آئیگا وہ بچ نہیں پائے گا الیمہ خان یا کوئی بھی ہو قانون کی گرفت ہر ایک پر ہوگی حکومت نیب سمیت کسی بھی احتساب کے ادارے میں مداخلت نہیں کریگی ۔

انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ سیخ پا ہو رہے ہیں انکی یاددہانی کے لیے بتانا چاہتاہوں کہ انہی کی حکومت اور اس وقت کی اپوزیشن نے اتفاق رائے سے موجودہ چیئرمین نیب کو تعینات کیا تھا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر تمام صوبوں کے دورے کر رہا ہوں اور جو بھی معاملات زیر التواء ہیں انکی تفصیل حاصل کرکے ان معاملات کو حل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی صوبے اور مرکز میں اتحادی ہیں ۔

بلوچستان کے مسائل پر وزیر اعلی سے تفصیلی بات ہوئی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسائل کے حل کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور آنے والے دنوں میں مثبت تبدیلی رونماء ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی سالمیت اور خوشحالی و استحکام کے لیے اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں پٹرولیم ڈویژن کے ماتحت تمام کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تمام صوبوں کو برابر نمائندگی دی جائیگی ایسا کرنے سے صوبوں میں روزگار کے مواقعے اور مسائل کا خاتمہ ممکن ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ غریب طبقے کو فلیٹ ریٹ پر گیس فراہم کرنے کا سوچ رہے ہیں پانچ سالوں میں گیس کمپنوں کا خسارہ 154 ارب روپے تک بڑھ گیا اب بھی ہم گیس اور این ایل جی سستے نرخوں پر فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے وزیر پٹرولیم آج گوادر کا دورہ کریں گے جبکہ سعودی ولی عہد کی آمد بھی آئندہ ماہ متوقع ہے جس میں اہم معاہدوں پر دستخط ہونگے ایک سوال کے جواب میں غلام سرور خان نے کہا کہ چین کو سعودی عرب کی سی پیک میں شمولیت پر کوئی تحفظات نہیں ہیں ہم نے بلوچستان حکومت کو بھی آن بورڈ لیا ہے انکے تمام خدشات بھی دور کئے جارہے ہیں انہوں نے کہابلوچستان کے سرد اضلاع میں 28 مکس ایل پی جی پلانٹ نصب کئے جارہے ہیں ۔

جن میں سے 26 پر ٹینڈر جلد ہو جائیں گے جبکہ صوبے کے کسی بھی علاقے میں گیس کا مسئلہ ہے تو انکے نمائندے ہمارے پاس آئیں انکے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے انہوں نے بتا یا کہ بلوچستان میں گیس کے ذخائر دریافت کرنے کے لیے بھی صوبائی حکومت کو اختیار دیا گیا ہے ۔

صوبے میں ایکسپلوریشن کے لیے تین بلاک دینے کی کوشش کریں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزراء و مشیران میر ضیاء لانگو ، محمد خان لہڑی ، میر سلیم کھوسہ ، عمر جمالی ، نصیب اللہ مری ، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسی خیل ، اراکین اسمبلی عبدالرشید بلوچ، مبین خلجی و دیگر بھی موجود تھے۔

دریں اثناء وزیراعلی بلوچستان میر جام کمال نے کہا ہے کہ گذشتہ حکومت نے پانچ سال غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان میں سی پیک کے تحت ایک کلومیٹر سڑک بھی تعمیر نہیں کی وفاقی حکومت نے بلوچستان کے نظر انداز اور زیر التواء منصوبوں پر پیش رفت کی یقین دہانی کروائی ہے

یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں وفاقی وزیر پیڑولیم غلام سرور خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر صوبائی وزراء و مشیران میر ضیاء لانگو ، محمد خان لہڑی ، میر سلیم کھوسہ ، عمر جمالی ، نصیب اللہ مری ، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسی خیل ، اراکین اسمبلی عبدالرشید بلوچ، مبین خلجی و دیگر بھی موجود تھے وزیر اعلی میر جام کمال نے کہا کہ سی پیک اب الگ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ہمارے تحفظات موجودہ نہیں گذشتہ حکومت سے تھے

جس نے سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں بلوچستان کو یکسر نظر انداز کیا لیکن وزیر اعظم عمران خان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وفاق بلوچستان کی جانب سے سی پیک ہیتمام نظر انداز منصوبوں پر پیش رفت کریگا اور ان پر کام کیا جائیگا

انہوں نے کہا کہ وزیر پٹرولیم سے بلوچستان کے اہم معاملات پر تبادلہ خیال ہوا ہے اور صوبے کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کمیٹیاں اور ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سرد اضلاع جن میں زیارت ، پشین ، کوئٹہ ، سوراب ، قلات ، مستونگ ، سمیت دیگر علاقے شامل میں گیس کی فراہمی ، پریشر بڑھانے جیسے مسائل وفاق کو پیش کئے گئے ہیں جبکہ پی پی ایل ، بولان مائننگ اور دیگر منصوبوں پر کام تیز کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور بی اے پی مخلوط حکومتوں میں اتحادی ہیں ہم محسوس کرتے ہیں کہ مرکز اور صوبہ مل کر ہی مسائل حل کر سکتے ہیں بے روزگاری ، غربت انفراسٹرکچر مسائل کے خاتمے کے لئے ٹیم کی طرح اگے بڑھیں گے انہوں نے کہا وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے اراکین بھی بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں جو خوش آئند ہے ۔