افغانستان کے صدر اشرف غنی نے قوم کو عیدالفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے آئندہ ملاقات 27 جون کو اسلام آباد میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل سعودی عرب میں وزیراعظم پاکستان سے ان کی ملاقات مثبت رہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان چند روز قبل سعودی عرب میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نے پرامن اور مستحکم افغانستان کے عزم کو دہرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے سیاسی حل کے لیے صرف افغانوں کی شمولیت والا امن عمل ناگزیر ہے۔عمران خان نے جنوبی ایشیاء کی ترقی پر اپنا نقطہ نظر بھی افغان صدر کو بتایا تھا جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان سیکیورٹی، تجارت اور انرجی سمیت کئی دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق رائے ہوا تھا۔
وزیراعظم نے اس امر کا بھی اظہار کیا تھا کہ افغانستان میں قیام امن سے خطے کا امن جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔افغانستان میں قیام امن کیلئے کوششیں تو طویل عرصہ سے جاری ہیں مگر نتیجہ خیز بات چیت نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار رہے ہیں جس کی وجہ سے پورا خطہ عدم استحکام سے دوچار ہے، جب تک افغانستان میں دیرپا امن قائم نہیں ہوتا خطے میں بے چینی برقرار رہے گی۔
پاکستان کی جانب سے افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اگر پاکستان اور افغان قیادت کے درمیان برائے راست بات چیت ہوگی تو یقینا اس کے اچھے نتائج برآمد ہونگے،افغان قیادت خود اس کا حصہ بنے جبکہ عالمی طاقتیں ثالثی کا کردار ادا کریں، افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان بھی شدید متاثر ہوکر رہ گیا ہے عرصہ دراز سے دہشت گردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں جس سے ملکی معیشت اور امن وامان پر انتہائی منفی اثرات پڑے ہیں۔
افغانستان میں امن نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ افغان صدر کی پاکستان آمد نئے راستے کھولے گی دونوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات سے یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہوگی۔ نائن الیون کے بعد دونوں ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں اگر افغانستان میں امن قائم ہوگا تو افغان مہاجرین بھی اپنے وطن واپس جاسکیں گے۔
پاکستان نے سرد جنگ کے بعد آنے والے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے جو خیر سگالی کا حصہ ہے، پاکستان کی کسی بھی حکومت نے زیادہ زور نہیں دیا کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیج دیں مگر یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ مہاجرین کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان خاص کر بلوچستان میں بدامنی کے بڑے سانحات رونما ہوئے ہیں جس پر بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے بڑے تحفظات ہیں، امید ہے کہ جلد افغانستان کامسئلہ حل ہوجائے گا اور مہاجرین کی واپسی بھی یقینی ہوجائے گی۔