|

وقتِ اشاعت :   July 10 – 2019

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت “احساس اسٹیرنگ کمیٹی” کاوزیراعظم آفس میں پہلا اجلاس ہوا۔ حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے “احساس پروگرام ” کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

سماجی تحفظ کے حوالے سے شروع کیے جانے والے مفصل اور جامع احساس پروگرام کے 115پالیسی مقاصد جب کہ چاربنیادی شعبوں میں سماجی تحفظ، وسائل انسانی کی ترقی، روزگار کی فراہمی اور حکومتی وسائل پر اشرافیہ کی گرفت ختم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مختلف سماجی پروگراموں کو یکجا کرنے اور ان کے درمیان ربط کو یقینی بنانے کے لئے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے حوالے سے علیحدہ ڈویژن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

احساس پروگرام کے تحت شروع کیے جانے والے مختلف پروگراموں پر عمل درآمد کے سلسلے میں 28وفاقی وزارتوں، مختلف اداروں بشمول صوبائی حکومتوں کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے شروع کیا جانے والا ”احساس پروگرام“ جہاں ملکی تاریخ کا سب سے مفصل پروگرام ہے وہاں اس پروگرام کا مقصد ریاست کی جانب سے معاشرے کے کمزور طبقات اور ضرورتمند افرادکی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

ماضی میں سماجی تحفظ کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی پروگراموں میں باہمی ربط اور کوآرڈینیشن کا فقدان رہا جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف وسائل کا ضیاع سامنے آیا وہاں بسااوقات حقدار بھی اپنے حق سے محروم رہا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ غربت کے حوالے سے اب تک موجود اعداد و شمار خصوصاََ غربت سروے پر مختلف حلقوں کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے غربت سروے کو از سر نو کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ غربت کے حوالے سے صحیح اعداو شمار مرتب کئے جا سکیں۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ غربت سروے کو جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔

وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان پر قابو پانے کے لئے اعلیٰ سطحی اسٹیرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے تاکہ جہاں اس جامع پروگرام پر وفاقی و صوبائی سطح پر متوازن عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے وہاں صوبوں کی سطح پر مقامی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مزید موثر بنا یا جا سکے۔

گزشتہ سال ورلڈ بینک کی اسٹیٹ آف واٹر سپلائی، سینیٹیشن اینڈ پاورٹی ان پاکستان کے نام سے جاری رپورٹ میں بتایا گیاتھا کہ بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے جس میں 62 فیصد دیہی آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقے شہری علاقوں کے مقابلے میں غریب تر اور تقریباً تمام سہولیات سے محروم ہیں۔2017ء کے دوران ایک حکومتی معاشی سروے کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان کی کل آبادی کے 71فیصد افراد غریبی میں زندگی بسر کررہے ہیں۔

اس سے قبل ماہرین معاشیات کا اندازہ تھا کہ غربت کی شرح 80 فیصد ہے مگرگزشتہ حکومتی سروے کے مطابق اس بات کی تصدیق ہوگئی تھی کہ یہ شرح 71فیصد تک ہے۔معاشی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہا ہے حالانکہ بلوچستان ملک کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں بڑے بڑے میگا منصوبہ بننے جارہے ہیں جو مستقبل میں معاشی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیں گی مگر اس سے بلوچستان کے عوام کو کس حد تک فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے اس کا موازنہ ماضی کے منافع بخش منصوبوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کے غریب عوام تو کجا حکومتیں بھی شکوہ کناں نظر آتی ہیں کہ صوبہ کو اس کا حق نہیں دیا گیاجس کی وجہ سے صوبہ مالی بحران کا شکار ہے۔

بہرحال احساس پروگرام کا مقصد پورے ملک میں مستحق افراد کی زندگی میں تبدیلی لانا ہے اورحکومت اپنے میکنزم کے ذریعے معاشی بہتری لانے جارہی ہے مگر یہاں بلوچستان کی احساس محرومی توجہ طلب ہے اگر بلوچستان کے اپنے ہی وسائل کے محاصل اسے دئیے جائیں تو بلوچستان میں غربت کی شرح میں پچاس فیصد کمی آسکتی ہے بلکہ حکومت میگا منصوبوں کو نجی کمپنیوں کے ذریعے چلانے کی بجائے صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر چلائے تو احساس پروگرام جیسے دیگر انسانی وسائل کو فائدہ پہنچانے والے منصوبوں کا جال بچھایا جاسکتا ہے۔

بشرطیکہ اس حوالے سے ایماندار فرض شناس آفیسران کی ذمہ داری لگائی جائے تو کوئی بعید نہیں کہ قومی خزانے کو بھی زیادہ مالی فائدہ پہنچے گاکیونکہ ماضی میں کرپٹ آفیسران نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ میگامنصوبوں پر ہاتھ صاف کئے اور ڈکار تک نہیں لیا،اس لئے ایسے خراب ریکارڈ کے عامل آفیسران کو نہ صرف میگامنصوبوں بلکہ احساس پروگرام سے بھی دور رکھاجائے جوغریبوں کے رقم کو مال غنیمت سمجھ کر ہڑپ کرجاتے ہیں۔