|

وقتِ اشاعت :   September 28 – 2019

چمن+کوئٹہ : جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری مولانا محمد حنیف دیگر دو افراد سمیت بم دھماکے میں شہید 17 افراد زخمی ہوگئے جمعیت علماء اسلام کا واقعہ کیخلاف بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان انجمن تاجران نے حمایت کردی واقعہ کیخلاف چمن اور کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

ہفتہ کے روز پاک افغان سرحدی شہر چمن کے مصروف ترین شاہراہ تاج روڈ پر موٹر سائیکل میں نصب بم دھماکے سے قریب کے عمارتوں کے شیشے ٹھوٹ گئے جبکہ گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی دھماکے کے وقت جمعیت علماء اسلام کے رہنماء مولانا محمد حنیف اپنے دفتر سے باہر آرہے تھے۔

پولیس کے مطابق دھماکے کا ہدف جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولوی محمد حنیف تھے۔ دھماکے کے فوری بعد سیکورٹی فورسز اور امدادی رضاکاروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر دھماکے میں زخمی ہونے مولانا محمد حنیف کو دیگر زخمیوں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر چمن منتقل کیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد کوئٹہ منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گئے۔

ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر محمد علی کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے 20 افراد کو ہسپتال لایا گیا تھا جن میں تین افراد شہیدہوئے دھماکے میں زخمی ہونے والے 17 افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ واقعے کی خلاف مشتعل افراد نے کوئٹہ چمن شاہراہ کو پرانی چمن کے مقام پر بند ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ واقعہ کیخلاف جمعیت علماء اسلام نے آج صوبے بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال دی ہے اور احتجاجی مظاہرے کئے جائینگے۔

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے جمعیت علماء اسلام کے آج ہونے والے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے تاجروں کو کاروباری مراکز بند رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ مولانا محمد حنیف کی شہادت کیخلاف کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظا ہر ے سے جمعیت علمائے اسلام ضلع کوئٹہ کے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق سنئیرنائب امیر مولانا خورشید احمد ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی بشیر احمد کاکڑ سمیت دیگر نے مولانا محمد حنیف شہیدکی شہادت کو کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا حنیف شہید کی شہادت سے ملکی حالات کو خراب کیا جارہا ہے جمعیت علمائے اسلام ایک پرامن سیاسی و مذہبی جماعت ہے جمعیت علمائے اسلام علماء کرام کی شہادتوں پر خاموش نہیں رہ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے کارکن پر امن رہے قیادت کے حکم کا انتظار کرے جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ ملکی استحکام و سالمیت کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں جمعیت علمائے اسلام کو امن کی سزا دی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے کارکن امن کا فلسفہ آگے بڑھائے۔