|

وقتِ اشاعت :   53 minutes پہلے

ملک بھر میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے عوام اور تاجر برادری شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔
ملک کے مختلف شہری اور دیہی علاقوں میں بجلی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے بھی تجاوز کرگیا ہے ۔
موسم گرما میں بجلی کی طلب زیادہ ہوتی ہے مگر رواں سال مارچ اوراپریل کے مہینے میں بھی لوڈ شیڈنگ زیادہ کی گئی جو کہ زیادتی ہے ۔
اب تو طویل عوام لوڈ شیڈنگ سے عاجز آگئے ہیں اور خودکو سولر سسٹم اور بیٹری کے ذریعے گرمی سے بچانے کا بندو بست کررہے ہیں۔
متبادل ذرائع پر جانے کی وجہ یہی ہے کہ ایک تو سرکاری بجلی بہت مہنگی پڑتی ہے اوریہ کہ لوڈ شیڈنگ میں کمی کی بھی کوئی امید نہیں۔
بہرحال بجلی لوڈ شیڈنگ سے صنعت اورزراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہورہاہے ، کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے اور عوام ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں۔
بجلی کے بھاری بل دینے کے باوجود بجلی کی لوڈ شیڈنگ زیادتی ہے ۔
وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے عملی طور پر اقدامات اٹھائے تاکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے عوام ،صنعتکار ،کاروباری طبقہ اور زمینداروں کو چھٹکارا مل سکے۔
بجلی لوڈ شیڈنگ پر وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے جمعہ کے روز اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ملک بھر میں لوڈ مینجمنٹ (بجلی کی بندش) ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایل این جی کارگو کی آمد کے بعد ایندھن کی بہتر فراہمی سے بجلی کے نظام میں استحکام بحال ہوگیا ہے۔
ویڈیو پیغام میں اویس احمد خان لغاری نے اس بات کی نشاندہی کی کہ 13 اپریل سے پاکستان میں لوڈشیڈنگ کی مختلف صورتحال رہی جس کا دورانیہ پہلے 5 گھنٹے تک پہنچا اور پھر بڑھ کر تقریباً 7 گھنٹے تک چلا گیا جس کے بعد اب اسے کم ترین سطح پر لایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی کمی (شارٹ فال) نظام کی خرابی یا تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ ایندھن کی فراہمی میں کمی کے باعث تھی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے ہم بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار گیس حاصل کرنے میں ناکام رہے، اگر ہم ڈیزل یا فرنس آئل سے بجلی پیدا کرتے تو یہ بہت مہنگی ہوتی جس کا براہِ راست بوجھ ہمارے صارفین پر پڑتا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ گیس کی اضافی سپلائی جو کہ اسپاٹ ریٹس پر خریدی گئی تھی پہنچ چکی ہے۔
مزید برآں ملک میں پن بجلی (ہائیڈرو پاور) کی پیداوار میں بھی بہتری آئی ہے جو تقریباً 1,000 میگاواٹ سے بڑھ کر اب 6,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت 32,000 میگاواٹ ہے اور عوام میں اس سے زیادہ اعدادوشمار کے بارے میں گردش کرنے والے دعوے درست نہیں ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایندھن کی بہتر دستیابی اور بروقت اقدامات کے باعث ملک کو دوبارہ طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ لوڈ شیڈنگ اب دوبارہ پچھلی سطح پر نہیں جائے گی۔
بہرحال اس سے قبل بھی حکومتی نمائندگان کی جانب سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کئے گئے مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا ،10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ 16 گھنٹے سے بھی تجاوز کرگئی۔
جودہ حالات میں عوام اور تاجر برادری شدید مشکلات سے دوچار ہیں ،ایک طرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے معاشی مسائل پیدا ہوئے ہیں اس پربجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کی مشکلات بڑھادی ہیں۔
حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے شدید گرم موسم میں بجلی لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ کو کم کرے ، مسائل میں جھکڑے عوام کو ریلیف فراہم کرے تاکہ وہ سکھ کا سانس لے سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *