|

وقتِ اشاعت :   October 29 – 2019

وزیر اعظم عمران خان نے مقامی حکومتوں کے نظام پر جلد از جلد عملدرآمد پر زور دیا اور تا کید کی کہ اس سلسلے میں پلان کو مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے کیونکہ ہمارے شہر اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتے جب تک ان میں موثر انتظامی نظام قابل عمل نہیں ہوتا۔عمران خان نے ان خیالات کا اظہار آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام سے موجودہ حکومت پاکستان میں ایک انقلاب لے کر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم کا مقصد عوام کو نچلی سطح پر مکمل طور پر بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنی تعمیر و ترقی کے فیصلے اور اپنے مسائل خود حل کرسکیں۔اجلاس کو لوکل گورنمنٹ سسٹم پر عملدرآمد کے سلسلے میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان کو پنجاب میونسپل سروسز پروگرام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

حکومت پنجاب کے لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہد داران نے اس ضمن میں کی گئی پلاننگ سے آگاہ کیا۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ویلیج پنچایت اور نیبر ہڈ کونسل کے الیکشن مارچ 2020 اور لوکل میونسپل اور تحصیل کونسل کے انتخابات مئی 2020تک منعقد کیے جائیں گے۔مقامی حکومتوں کی تشکیل کا بنیادی مقصد ترقیاتی فنڈز کا پچیس فیصد قانون کے مطابق بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ کر نا ہے تاکہ مکمل طورپر شہری حکومتوں کا قیام عمل میں لائی جاسکے۔

مقامی حکومتیں مکمل طورپر آزاد اور خود مختار ہوں۔جہاں تک ترقیاتی عمل کا تعلق ہے مقامی حکومتیں مقامی طورپر منصوبہ بندی کریں اور عوام کو بہترین شہری سہولیات فراہم کریں۔ ماحول کا تحفظ کریں۔ آب نوشی، پانی کی نکاسی، صحت و صفائی،گندگی کی صفائی اور ان کو ٹھکانے لگانے کا کام، اگر اس کے لئے پلانٹ لگائے جائیں تو بہتر ہوگا۔ گزشتہ زمانے میں پرائمری اسکولوں کی نگرانی بلدیاتی اداروں یا مقامی حکومتوں کے ذمہ ہواکرتا تھا۔

پرائمری تعلیم مقامی حکومتوں کے حوالے کیے جائیں تاکہ بھوت اساتذہ اور بھوت اسکولوں کا مسئلہ بھی حل ہوجس کے بعد سیکنڈری اسکول کی تعلیم بھی مقامی حکومتوں کے حوالے کئے جائیں۔ ان میں تمام مدارس کو ضلعی حکومتوں کے ماتحت کیاجائے اور ان کی الگ شناخت ختم کی جائے تاکہ دینی مدارس کا کوئی سیاسی استعمال نہ ہو اور اس کو وسیع تر تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ بہر حال صوبائی حکومتوں کے اختیارات کو کم کیاجائے اور یہ اختیارات ضلعی حکومتوں کو دی جائیں۔

اس کے ساتھ یہی وفاقی حکومت کے ساتھ بھی ہو یعنی اس کے اختیارات کو بھی محدود کیاجائے۔ وزیراعظم عمران خان بارہا مقامی حکومتوں کی بہتری کے حوالے سے بات کرچکے ہیں جبکہ کے پی کے نظام کی مثال بھی دیتے آئے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں اگر مقامی حکومتیں بااختیار ہوں تو ملک کے صرف شہری نہیں بلکہ دیہی مسائل بھی حل ہوجائینگے جو عرصہ دراز سے حل طلب ہیں، دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ دیکھنے کونہیں ملتا، وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں کیونکہ ماضی میں یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ ایم پی اے اور وزراء کی براہ راست بلدیاتی اداروں میں مداخلت رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کے دورمیں سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات بلوچستان میں کرائے گئے جس کا کریڈیٹ تو حکمران جماعت لیتی رہی مگر افسوس کہ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی مکمل صفر رہی ہے۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت مقامی حکومتوں کی تشکیل کو یقینی بناتے ہوئے مداخلت سے پاک نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرے گی تاکہ مقامی نمائندگان بااختیار ہوکر فنڈز کا صحیح استعمال کرتے ہوئے دیہی علاقوں کو بھی ترقی کی جانب گامزن کرسکیں کیونکہ بلوچستان ایک وسیع علاقہ ہے جس کے مسائل بھی سب سے زیادہ ہیں اس کا حل صرف مقامی حکومتوں کی تشکیل اور زیادہ سے زیادہ فنڈز کی فراہمی ہے تاکہ دور دراز کے علاقے بھی ترقی کی دوڑ میں شامل ہوسکیں۔