|

وقتِ اشاعت :   December 13 – 2019

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہنگامہ آرائی کے ملزم وکلاء کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔بدھ کے روز ہسپتال پر دو سو سے زائد وکلاء نے دھاوا بول کر وہاں توڑ پھوڑ کی تھی اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔پولیس نے جمعرات کی دوپہر 46 ملزمان وکلاء کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج عبدالقیوم خان کے سامنے پیش کیا۔عدالت نے مختصر سماعت کے بعد وکلا ء کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔خیال رہے کہ چند روز قبل چند وکلاء نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں علاج کے بعد ادویات کی مفت فراہمی کا مطالبہ کیا تھا،وہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے وکلاء اور ہسپتال انتظامیہ کے درمیان جھگڑاہواتھا۔بدھ کو انتظامیہ اور وکلا ء کے درمیان مذاکرات ہونے تھے تاہم وکلا ء گروہ کی شکل میں ہسپتال آئے اور دھاوابول دیا۔

اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ہسپتال میں داخل مریض بھی متاثر ہوئے اور حکام کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران تین مریض طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلاء کے خلاف تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت دو مختلف مقدمات درج کیے ہیں۔پہلا مقدمہ ہسپتال کے عملے کے ایک رکن کی مدعیت میں 250 سے زائد وکلاء کے خلاف قتل خطا، کار سرکار میں مداخلت، دہشت پھیلانے، ہوائی فائرنگ کرنے، زخمی اور بلوہ کرنے، لوٹ مار، عورتوں پر حملہ کرنے اور سرکاری مشینری اور نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہچانے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔اس مقدمے میں 21 وکلاء کو، جن میں لاہور بار کے جنرل سیکرٹری اور نائب صدر بھی شامل ہیں، نامزد کیا گیا ہے جبکہ باقی نامعلوم ہیں۔

دوسرا مقدمہ پولیس مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں پولیس وین کو جلانے، پولیس پر حملہ آور ہونے جیسے الزامات کے تحت دفعات لگائی گئی ہیں۔وکلا ء کی جانب سے جمعرات کو صوبے بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا تاہم حکومت اور ضلعی انتظامیہ ان سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے۔وکلاء کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب تک ان کے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا تب تک مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ وکلاء کی ہڑتال کے باعث عدالتوں میں جمعرات کو کام نہیں ہو سکا۔گزشتہ روز پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جس طرح سے وکلاء نے دھاوا بولا اور ہنگامہ آرائی کی اس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی کہ کس طرح سے قانون کے رکھوالوں نے ٹولے کی صورت میں اسپتال پر حملہ آور ہوکر قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔ ماضی میں بھی وکلاء کی جانب سے کورٹ کے اندر تشددکے واقعات سامنے آئے ہیں جبکہ ججوں پر بھی حملے کئے گئے۔ بعض وکلاء اسے اپنا حق سمجھ کر موجودہ اسپتال حملے کا دفاع کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ یکطرفہ طور پر اس مسئلے کی تشہیر کی جارہی ہے جبکہ ڈاکٹروں نے جس طرح سے وکلاء برادری کا تمسخر اڑایا، اسے پیش نہیں کیاجارہا۔

افسوس کی بات ہے کہ جنہیں قانون کے اندر رہ کر اپنی جنگ لڑنی چاہئے وہی طبقہ اگر تشدد کے ذریعے اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتا دکھائی دے توحقیقت میں وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہا ہوتاہے کہ انہیں کوئی روکنے والا نہیں۔یہ ایک اچھی بات ہے کہ اعتزازاحسن جیسے بعض سینئر وکلاء تحریک کے قائدین اس عمل کو شرمناک قرار دے رہے ہیں۔اس بات سے کوئی انکاری نہیں کہ وکلاء برادری کی ملک میں جمہوریت اور قانون کی بالادستی کیلئے قربانیاں ناقابل فراموش ہیں مگر ایسے عمل کے بعد وکلاء برادری کا عام لوگوں کے دلوں میں کیا احترام رہ جائے گا جس طرح سے اسپتال کے اندر عام لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اسپتال میں آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ جو رویہ اپنایا گیا، جن کے دلوں سے آہ نکل رہی تھی، یقینا انسانی اور اخلاقی عمل کو پامال کیا گیا جس پر ضرور کارروائی ہونی چاہئے تاکہ کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں نہ لے سکے اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور اس طرح کے عمل کو پھر دہرایا نہ جائے۔ سینئر وکلاء کی سب سے بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وکلاء کے اس احتجاجی طرز میں تبدیلی لانے کیلئے تمام وکلاء تنظیموں کے قائدین سے نشست کریں اور ایک ایسا روڈ میپ تیار کریں تاکہ مہذب پیشہ بدنامی کا سبب نہ بنے اور وکلاء کے اندر ایسے عناصر جو تشدد پر یقین رکھتے ہیں ان کے خلاف خود تنظیموں کے اندر بھی تادیبی کارروائی کریں تاکہ آئندہ اس طرح کے عمل کی وجہ سے وکلاء برادری بدنام نہ ہو۔