لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔90شاہراہ قائد اعظم پر ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور،پنجاب اور بلوچستان کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بلوچستان کے وفد کے ساتھ بلوچی زبان میں بھی گفتگو کی-دونوں وزرائے اعلیٰ نے نئے سال میں نئے جذبے اور عزم کے ساتھ عوام کی خدمت کے عزم کا اعادہ کیا-دونوں وزرائے اعلیٰ نے اس بات پر اتفاق کیاکہ عوامی خدمت کی راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کا ملکر مقابلہ کریں گے-سازشیں کرنے والے پہلے بھی ناکام و بے مرادرہے اورآئندہ بھی ایسے عناصر کو کامیابی نہیں ملے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارنے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تنقید کرنے والے عناصر پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی سے خائف ہیں -ترقی اور خوشحالی کے سفر میں دونوں صوبے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھیں گے۔ نئے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شانہ بشانہ چلیں گے۔ پنجاب حکومت بلوچستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی اسی طرح عزیز ہے جس طرح پنجاب کے عوام کی – بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے – بلوچستان کے طلبا و طالبات کیلئے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں خصوصی کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے طلبا و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کیلئے وظائف فراہم کئے گئے ہیں۔بلوچستان کے عوام کیلئے پنجاب حکومت کوئٹہ میں 2ارب روپے کی لاگت سے دل کاہسپتال بنائے گی اور یہ ہسپتال پنجاب حکومت کا بلوچستان کے عوام کیلئے خیر سگالی کا تحفہ ہے۔
پنجاب اوربلوچستان کے درمیان مواصلاتی رابطوں کو بہتر بنایا جائے گا-بلوچ بہن بھائیوں کی جو بھی خدمت ہو گی پنجاب پیچھے نہیں رہے گا-انہوں نے کہاکہ اوکاڑہ میں میر چاکر اعظم رند کے مقبرے کی اصل حالت میں بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے -میر چاکر اعظم رند کے مقبرے کی تزئین و آرائش کے لئے ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کئے گئے ہیں -ہماری خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں۔
بلوچستان کو ماضی میں نظرانداز کیا گیا۔ تحریک انصاف کی حکومت بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے پرعزم ہے۔ نئے پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے – عام آدمی کو پاکستان میں وہی سہولتیں دیں گے جو امیر کو ملتی ہیں – وزیراعلیٰ نے کہاکہ راجن پور او رڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیمز بنانے کے منصوبے پر کام شروع کردیا گیاہے اوران ڈیمز کی تعمیر سے ضائع ہونے والے پانی کو محفوظ کیا جا سکے گا۔
ہم نے مل کرنیا پاکستان بناناہے -نئے پاکستان میں بلوچستان کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔دونوں وزرائے اعلیٰ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت اورمودی سرکار کے متنازعہ شہریت کے قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہاکہ مودی سرکار کے غیرقانونی، غیر آئینی اورغیر جمہوری ہتھکنڈوں کو مسترد کرتے ہیں – کشمیر اور پاکستان کا رشتہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔
دنیا کی کوئی طاقت کشمیر اور پاکستان کو جدا نہیں کر سکتی۔ فاشسٹ مودی نے متنازعہ شہریت کے قانون کے ذریعے اپنا گڑھا خود کھودا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ معصوم کشمیری عوام اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں۔ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب اوربلوچستان کے لوگ محبت کی کڑی سے جڑے ہیں۔پاکستان ہم سب کا سانجھا ملک ہے۔ صوبوں میں ہم آہنگی اوریکجہتی کو فروغ دینے کیلئے مثبت کردارجاری رکھیں گے۔ وفد میں سینیٹر انوار الحق کاکڑ،بلوچستان کے وزیرداخلہ میر ضیا لانگو،وزیرتعلیم محمد بخش لہڑی، وزیرریونیو سلیم کھوسہ اوردیگر شامل تھے-صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہا ن بھی اس موقع پر موجود تھے۔