|

وقتِ اشاعت :   January 19 – 2020

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت گذشتہ روز منعقد ہونے والا کابینہ اجلاس تقریباً بارہ گھنٹے جاری رہنے کے بعد رات دیر گئے ختم ہوا، کابینہ اجلاس میں میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر، (MERC) کے منصوبے کے مالی وانتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔

اس منصوبے کے تحت صوبے کی مختلف قومی شاہراہوں پر 25 ایمرجنسی رسپانس سینٹر قائم کئے جانے ہیں جن میں سات سینٹر قائم کردیئے گئے ہیں جہاں تربیت یافتہ عملہ اور طبی سہولیات موجود ہیں، محکمہ صحت کی جانب سے اس منصوبے کو ترقیاتی منصوبے سے غیرترقیاتی منصوبے میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی گئی،کابینہ نے منصوبے کے لئے گرانٹ ان ایڈ کی مد میں فنڈز کی فراہمی کی منظوری دی، صوبائی کابینہ نے کوئٹہ کے بڑے ہسپتالوں کی او پی ڈی میں سرکاری ڈاکٹروں کو نجی پریکٹس کرنے کی منظوری دی جس کا مقصد عوام کو علاج معالجہ کی بہتر اور سستی سہولت کی فراہمی ہے۔

فیس کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی کا ساٹھ فیصد ڈاکٹروں کو جبکہ چالیس فیصد حصہ اس ہسپتال کو ملے گا جسے ہسپتال کی بہتری کے لئے استعمال کیا جائے گا، صوبائی کابینہ نے ایم ایس ڈی کی عدم مرکزیت اور ضلعی ہسپتالوں کی ضروریات کے مطابق ڈویژنل کمشنر کی سربراہی میں متعلقہ ڈویژن کے محکمہ صحت کے حکام پر مشتمل کمیٹی کے ذریعہ ادویات کی خریداری کے طریقہ کار کی منظوری دی، کابینہ نے صوبے کے ٹرشری کیئر ہسپتالوں، ٹراما سینٹر، چلڈرن ہسپتال کوئٹہ اور مفتی محمود ہسپتال کچلاک کے لئے ضروری مشینری او ر آلات کی خریداری کے لئے فنڈز کے اجراء کی منظوری بھی دی، کابینہ نے کینسر ہسپتال کے منصوبے کے لئے 200ملین روپے کے اجراء کی منظوری دی، کینسر ہسپتال آئندہ ماہ مکمل کرلیا جائے گا۔

کابینہ نے کوئٹہ سٹروم واٹر منصوبے کے لئے اضافی فنڈز کے اجراء کی منظوری دیتے ہوئے منصوبے کی فوری تکمیل کی ہدایت کی، کابینہ نے تربت مند روڈ کی تعمیر کے منصوبے کے ڈیزائن میں بعض تبدیلیوں اور اضافی فنڈز کی منظوری بھی دی، کابینہ نے مغل کوٹ تا تحصیل زمری پلازین موسیٰ خیل روڈ کی تعمیر کی منظوری دیتے ہوئے پی سی ون تیار کرنے کی ہدایت کی، کابینہ نے فیصلہ کیا کہ شاہراہوں کی ناقص تعمیر پر متعلقہ حکام کے ساتھ ساتھ ٹھیکیدار کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور ان کی بروقت تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، انہوں نے کہا کہ اچھے اور برے افسر میں فرق ہونا چاہئے اگر کوئی افسر اپنے محکمے میں اچھا کام نہ کرسکے تو آنے والا افسر بہتری لانے کے ساتھ ساتھ سابقہ افسر کے دور کا آڈٹ بھی کرے تاکہ افسروں کو خوف ہو کہ ان کے جانے کے بعد آنے والا افسر اس کا محاسبہ کرے گا۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے صوبے میں حالیہ برف باری اور بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت کی معاونت کی فراہمی میں متعلقہ وفاقی محکموں کی عدم دلچسپی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی سیکریٹری توانائی، چیئرمین این ایچ اے، چیئرمین این ڈی ایم اے، ایم ڈی ایس ایس جی سی کو بلوچستان پہنچنا چاہئے تھا تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان وفاقی محکموں کی ترجیحات میں شامل نہیں، ان محکموں کا یہ رویہ ہمارے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔

اس حوالے سے وزیراعظم کو خط لکھ کر آگاہ کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حالیہ برف باری اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادوبحالی کی سرگرمیوں کی سرگرمیوں کے جائزے اور قدرتی آفات سے بروقت اور موثر طور پر نمٹنے کے لئے لائحہ عمل کی تیاری کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، میر سلیم احمد کھوسہ، چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری زراعت، سیکریٹری آبپاشی، سیکریٹری صحت، کمشنر کوئٹہ، ڈی جی پی ڈی ایم اے، جنرل منیجر این ایچ اے بلوچستان، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور دیگر متعلقہ حکام اجلاس میں شریک تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ قومی شاہراہوں کی دیکھ بھال اور انہیں بحال رکھنا این ایچ اے کی ذمہ داری ہے تاہم برفباری سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے این ایچ اے نے اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا نہیں کی اور بند قومی شاہراہوں کو صوبائی محکموں کی کوششوں سے کھولا گیا، این ایچ اے کو مسلم باغ میں اپنا مستقل مرکز قائم کرنا ہوگا جہاں بھاری مشینری اور افرادی قوت موجود رہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ قدرتی آفات سے کوئی بھی ایک محکمہ یا ادارہ موثر طور پر نہیں نمٹ سکتا، اس کے لئے ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے، تمام متعلقہ محکمے اور ادارے ہنگامی حالات میں حکومت کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کریں تاکہ اس کے مطابق اقدامات اٹھائے جاسکیں، اگر انہیں وسائل کی کمی اور کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا ہے تو اسے چھپانے کی بجائے اجاگر کریں اور اپنی ضروریات کے بارے میں حکومت کو بتائیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ برفباری، سیلاب، زلزلوں اور خشک سالی جیسی قدرتی آفات سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ فوری طور پر ریسکیواور امدادوبحالی کی سرگرمیوں کا آغاز کیا جاسکے، پی ڈی ایم اے کے پاس ضروری مشینری اور ریسکیو آپریشن کے لئے تربیت یافتہ اسٹاف موجود ہونا چاہئے۔

پی ڈی ایم اے میں مربوط آپریشن اور کوآرڈینیشن روم کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں تمام محکموں کی نمائندگی ہو، پی ڈی ایم اے اپنا مواصلاتی نظام قائم کرے اور صوبے کو مختلف زونز میں تقسیم کرکے ذیلی ڈائریکٹریٹ قائم کرے جہاں ضروری مشینری، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء، میڈیکل ٹیمیں اور دیگر اسٹاف دستیاب ہو جس کے لئے حکومت ضرورت کے مطابق فنڈز فراہم کرے گی۔

اس حوالے سے انہوں نے ڈی جی پی ڈی ایم اے کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ برف اور بارش کے حالیہ تجربہ کے مطابق مشینری اور آلات کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ عملے کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی جامع منصوبہ بندی کی جائے، ہر ادارے کو اپنے کام میں مہارت حاصل ہو اور وہ اپنے مقرر کردہ فرائض سرانجام دے۔

انہوں نے کہا کہ موسم کے لحاظ سے آئندہ آنے والے ہفتے زیادہ مشکل ہوں گے لہٰذا پی ڈی ایم، محکمہ موسمیات کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے موسم کی صورتحال پر نظر رکھے اور اس کے مطابق پوری تیاری رکھی جائے۔

وزیراعلیٰ نے کان مہترزئی اور مسلم باغ شاہراہ کی بحالی کے لئے کامیاب آپریشن پر ڈی جی پی ڈیم اے، ضلعی انتظامیہ، لیویز اور ایف سی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریسکیو آٖپریشن سے بہت سی قیمتی جانوں کو بچانا ممکن ہوسکا ورنہ کوئی انسانی المیہ جنم لے سکتا تھا۔

اجلاس میں حالیہ برفباری اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی بحالی، ریلیف اور میڈیکل کیمپس کے قیام کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے محکمہ صحت، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی اور ہر تحصیل ہیڈکوارٹر میں ریلیف کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان نے بتایا کہ محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق 11اور 12جنوری کو بھاری برفباری کے حوالے سے پی ڈی ایم اے نے الرٹ اور ٹریفک ایڈوئزری جاری کردی تھی، برفباری اور بارشوں نے 9 اضلاع کو متاثر کیا اور مختلف حادثات میں بیس افراد جاں بحق اور 23زخمی ہوئے، 176گھر گرے جبکہ 393گھروں کو نقصان پہنچا، آٹھ ہزار ایکڑ سے زائد زرعی اراضی متاثر ہوئی اور آٹھ سو مویشی ہلاک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے فوری طور پر ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا، متاثرہ لوگوں تک بذریعہ ہیلی کاپٹر اور سڑک پکا پکایا کھانا، خشک خوراک، خیمے، کمبل، گیس سیلنڈر اور دیگر اشیاء کی فراہمی کا آپریشن جاری ہے، رابطہ سڑکوں کو بحال کیا جارہا ہے اور میڈیکل کیمپوں کے ذریعہ متاثرہ علاقوں میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کی ضروت کے مطابق درآمد کی گئی بھاری مشینری کراچی پورٹ پہنچ چکی ہے جس کی کسٹم کلیرنس کیلئے کسٹم حکام کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے اور جلد مشینری کوئٹہ پہنچ جائے گی۔