|

وقتِ اشاعت :   September 8 – 2020

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ اگر ہم بنیادی مراکز صحت کی سروسز کو بہتر بنادیں تو بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوسکتا ہے، بنیادی مراکز صحت میں تعینات عملے کی حاضری کو یقینی بنانا اہم ہے اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسروں اور ڈپٹی کمشنروں کو عملے کی حاضری یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی جائے گی، شعبہ صحت کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہم اس حوالے سے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز پرائمری ہیلتھ انیشیٹیوز (پی پی ایچ آئی) کے امور کے جائزہ اجلاس کے دوران کیا جس میں میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹرز کی کارکردگی کاجائزہ بھی لیا گیا، پی پی ایچ آئی کے چیف ایگزیکٹیو عزیز جمالی نے متعلقہ امور پر بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ پی پی ایچ آئی کے تحت صوبے کے تمام اضلاع کے بنیادی مراکز صحت میں گائنی اور دیگر شعبوں میں علاج معالجہ کی سہولیات اور ادویات فراہم کی جارہی ہیں اور صوبے کی بہت بڑی آبادی ان سے مستفید ہورہی ہے، انہوں نے اجلاس کو پی پی ایچ آئی کو فنڈز کے اجراء سمیت درپیش دیگر مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ ادارے کے فنڈز کے اجراء کو باقاعدہ بنایا جائے تاکہ عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا نہ ہو، وزیراعلیٰ نے پی پی ایچ آئی کے تحت بچوں اور خواتین کی غذائیت کے پروگرام ایم این سی ایچ پروجیکٹ اور ٹیلی میڈیسن کے منصوبے کو مزید مستحکم بنانے اور وسعت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے اپنی نوعیت کے حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، ماں اور بچے کی صحت کا تحفظ اور دوردراز علاقوں کے عوام کو ٹیلی میڈیسن طریقہ کار کے تحت علاج کی جدید سہولتوں کی فراہمی میں مدد مل رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے ایم ای آر سی پروگرام کے تحت قومی شاہراہوں پر ایمرجنسی مراکز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹریفک حادثات کی صورت میں زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے ذریعہ قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں، چیف ایگزیکٹیو نے آگاہ کیا کہ اس وقت صوبے کی مختلف قومی شاہراہوں پر ایم ای آر سی کے 25سے زائد ایمرجنسی مراکز میں 800سے زائد تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے جبکہ مزید فنڈز کی دستیابی کی صورت میں مزید مراکز قائم کئے جائیں گے اور عملہ بھرتی کرکے انہیں تربیت فراہم کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کے لئے مزید فنڈز کی فراہمی کی ہدایت کی، اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ قومی شاہراہوں پر ایمرجنسی مراکز کے قیام اور سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے معاونت کے حصول کے لئے این ایچ اے سے بھی رابطہ کیا جائے گا کیونکہ قومی شاہراہوں پر حادثات کی روک تھام اور ایمرجنسی سروسز کی ذمہ داری بنیادی طور پر این ایچ اے کی ہے، سیکریٹری اطلاعات، سیکریٹری پی اینڈ ای، ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ اور ایڈیشنل سیکریٹری صحت نے بھی اجلاس میں شرکت کی دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبے میں شعبہ زراعت کی ترقی اور وسعت کی بے پناہ گنجائش موجود ہے۔

شعبہ زراعت کی ترقی کے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھا کر غربت میں کمی، روزگار میں اضافہ اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے جس سے دیرپا امن کا قیام بھی ممکن ہوگا، ڈیموں میں پانی کی موجودہ صورتحال مزید ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں کی تکمیل اور کچھی ڈیم کے منصوبے سے لاکھوں ایکڑ اراضی زیرکاشت آئے گی جس کے صوبے کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ زراعت میں جاری اور نئے منصوبوں کی پیشرفت کے جائزہ اجلاس کے دوران کیا، وزیر زراعت وامداد باہمی زمرک خان اچکزئی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات عبدالرحمن بزدار بھی اجلاس میں شریک تھے،سیکریٹری زراعت وامدادباہمی قمبر دشتی نے اجلاس کو منصوبوں کی پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ زراعت کے شعبہ میں 37212ملین روپے کی لاگت سے 27جاری اور 2905ملین روپے کی لاگت سے 16نئے منصوبے شامل ہیں جن میں سے 8جاری اور 10نئے منصوبے اس سال مکمل کرلئے جائیں گے۔

ان میں پانی کی بچت کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، ٹنل فارمنگ کا فروغ، محکمہ کی ریسرچ لیبارٹریوں کو مستحکم بنانا، ریسرچ اور تحقیق کا فروغ، گندم، چاول، بارلے اور سبزیوں کی نئی اقسام کے بیجوں کی رجسٹریشن اور سرٹیفکیشن کے ذریعہ بہتر فصلوں کی پیداوار جیسے اہم منصوبے شامل ہیں جبکہ کسانوں اور زمینداروں کو جدید طریقہ کاشت سے آگاہی کے تربیتی پروگرام بھی جاری ہیں، کچھی کینال کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے فیز ون کے تحت ایک تا 10ڈسٹری بیوٹریز سے منسلک 37877ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنایا جارہا ہے۔

جس پر لاگت کا تخمینہ 1670ملین روپے ہے جبکہ فیز ون کے پارٹ بی کے تحت 11سے 15ڈسٹریبیوٹریز سے منسلک اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے گا جس پر لاگت کا تخمینہ 550ملین روپے ہے، سیکریٹری زراعت نے آگاہ کیا کہ پنجگور میں 400ملین روپے کی لاگت سے ایک ہزار ٹن استعداد کا حامل ڈیٹ پروسیسنگ پلانٹ اور کولڈ اسٹوریج کے قیام کا منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے۔

انہوں نے اجلاس کو میرانی ڈیم کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام اور متاثرین ڈیم کو معاوضوں کی ادائیگی کے امور سے متعلق بھی بریفنگ دی، وزیراعلیٰ نے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی،سیکریٹری زراعت نے وفاقی حکومت کی معاونت سے صوبے کے جنوبی علاقوں میں زرعی ترقی کی مجوزہ منصوبے کے حوالے سے بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے دس جنوبی اضلاع میں زرعی ترقی کے لئے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی منصوبے وفاقی کو بھجوائے گئے ہیں، اس موقع پر وزیراعلیٰ نے محکمہ کے ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ مقامی انجینئرز کو روزگار دے کر اپنے ترقیاتی منصوبوں پر خود کام کرے۔