لاہور: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہاہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک کسی اسٹیج پر موجود نواب یا سردار کی کرسی سے بڑی ہے،مسلم لیگ(ن) پاکستان میں آئین کی بالادستی،حقیقی سیاسی جماعتوں کااتحاد اور جمہوری قوتوں کو ساتھ لیکرچل رہاہے،دوافراد کے جانے سے مسلم لیگ(ن) کی بلوچستان میں تنظیمی ڈھانچہ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا۔احسن اقبال نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) بلوچستان کی تنظیم مکمل اپنی جگہ پر کھڑی ہے،دو اشخاص کے پارٹی سے نکلنے سے تنظیم کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ بلوچستان میں نواب ثناء اللہ زہری دو سال سے غیر فعال ہوچکے تھے وہ پارٹی کے سامنے خود بھی شرمندہ تھے کہ وہ بلوچستان میں اپنی حکومت کا دفاع نہیں کرسکے تھے ان کے ہاتھوں ان کی صوبائی حکومت ٹوٹ گئی تھی۔
جس کے اوپر پارٹی نے ان کی سرزنش کی تھی کہ وہ کامیاب بلوچستان حکومت کیوں نہیں چلا سکا اور کیوں ایم پی ایز نے ان کا ساتھ چھوڑا اس وجہ سے وہ سے پارٹی سے شرمندہ تھے،دو سالوں میں نواب ثناء اللہ زہری نے پارٹی کے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کی لہٰذا اگر انہوں نے پارٹی چھوڑی ہے تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔
جنرل عبدالقادر بلوچ اور نواب ثناء اللہ زہری نے یہ بات سب کے سامنے رکھی ہے کہ ان کااصل جھگڑا اور اصل حقیقت دونوں نواب ثناء اللہ زہری کے کوئٹہ کے جلسے میں اسٹیج پر کرسی نہ ملنے پر تھی مسلم لیگ(ن) جو تحریک چلا رہی ہے وہ کسی نواب یا سردار کے اسٹیج پر کرسی سے بڑی ہے پی ڈی ایم کی تحریک کامقصد پاکستان میں آئین کی بالادستی،حقیقی سیاسی جماعتوں کااتحاد اورتمام جمہوری قوتوں کو ساتھ لیکر چلنا ہے۔
اگر کوئی اپنی راہیں جدا کرتاہے تو یہ اس کااپنا فیصلہ ہے اس کی تنگ نظری،ضد اور آناہے مسلم لیگ(ن) کو اس طرح کے رویہ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔دریں اثناء سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عبدالقادر بلوچ کے بیانات بدقسمتی ہے،انہوں نے صرف اپنی سیاست کو تباہ اور جو ا نکا عزت وقار تھا اسے مجروح کیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ کے کوئٹہ میں جلسہ سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا عبدالقادر بلوچ حقیقت سے واقف ہیں۔
اور میں بھی ہوں۔ ایک جلسے میں ثناء اللہ زہری کو مدعو نہ کئے جانے کے معاملے کو پی ڈی ایم کے بیانیہ سے جوڑنا قطعاً غلط اور جھوٹی بات ہے۔مجھے ان سے یہ توقع بالکل نہیں تھی اگر وہ پارٹی چھوڑنا چاہتے تھے تو استعفیٰ بھیج دیتے بات ختم ہوجاتی۔انہوں نے کہا جماعت نے عبدالقادر بلوچ کو عزت دی ہے لیکن وہ اس عزت کی لاج نہ رکھ سکے جو افسوسناک بات ہے۔سیاست میں راہیں جدا ہوتی ہیں۔
لیکن جس بیانیہ کی وہ بات کررہے ہیں اس کا انہوں نے مجھ سے کبھی ذکر نہیں کیا اور نہ جماعت کے کسی اوررہنماء سے بات کی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا نوازشریف کا یہ بیانیہ کہ ملک آئین و قانون کے مطابق چلے اس سے سارا پاکستان اتفاق کرتا ہے۔جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ اگر اس سے اتفاق نہیں کرتے تھے تو جماعت کے اندر بات کرتے،مجھ سے ذاتی طور پر ان کی گفتگو رہی ہے۔
لیکن انہوں نے کبھی ایسی بات نہیں کی۔انہوں نے افسوسناک بات کی ہے، ا ن باتوں کو ذاتی بنانا یہ عبدالقادر بلوچ کی ذاتی سیاست کی بدنامی اور ناکامی ہے۔یہ پی ڈی ایم کے بیانیہ کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے کہ جو لوگ ہماری صفوں میں نہیں تھے جو ملک میں آئین کی بالادستی نہیں چاہتے وہ آج اپنے اصل گھر پہنچ چکے ہیں۔