کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ ن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن))بلوچستان کے 32اضلاع میں پہلے کی طرح فعال ہے، جنرل (ر)عبدالقادر کی ساتھیوں سمیت مستعفی ہونے کا دکھ ہے، میاں محمدنواز شریف کے اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کی موقف کے ساتھ آج ملک کے تمام سیاسی و جمہوری پارٹیاں کھڑی ہیں، بلوچستان میں بہت سے لوگ ن لیگ میں شمولیت کے لئے رابطے میں ہیں۔
جلد ہی شمولیتوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو بلوچستان کے مختلف اضلاع کے پارٹی عہدیداروں ملک طاہر، جلیل احمد، شکیب علی زئی، امیر محمد، محمد فاروق ودیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ آج پارٹی کی بہترین ساتھیوں کی جانب سے استعفی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ہمارے لئے باعث دکھ ہے تاہم جمہوریت میں ہر شخص کو اپنا فیصلہ کرنے حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مہمان نوازی کی روایت کے ساتھ ساتھ راتوں رات پارٹیاں بدلنے کی روایت بھی موجود ہے عام انتخابات کے موقع پر ن لیگ کے ساتھ جو کچھ بلوچستان میں ہوا وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ ن بلوچستان میں قائم و دائم ہے ان تمام عہدیداروں اور پارٹی کارکن خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے تمام تر مشکل حالات کے باوجود ن لیگ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
انہوں نے کہا کہ جلد ہی بلوچستان میں ایک عظیم الشان ورکرز کنونشن کا انعقاد کررہے ہیں جس میں پارٹی کے مرکزی قائدین بھی شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف مہنگائی،بے روزگاری کی جنگ لڑ رہے ہیں اس وقت ملک کی تمام سیاسی و جمہوری پارٹیوں ن لیگ کے ساتھ کھڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)کی وہ واحد جماعت ہے۔
جو ملک کو تمام تر بحرانوں اور سخت حالات سے نجات دلا سکتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)ملک کی مقبول ترین جماعت ہے بلوچستان میں بہت سے لوگ ن لیگ میں شمولیت کے لئے رابطے کررہے ہیں اور جلد ہی تسلسل سے شمولیتوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ بلوچستان میں پارٹی صدارت کے حوالے سے مرکزی قیادت جو فیصلہ کرے گی وہ ہمیں قابل قبول ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ نواب ثنا اللہ زہری کی پی ڈی ایم جلسے میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے 24اکتوبر کو ہی بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا، میاں صاحب نے درخواست کی کہ پی ڈی ایم چونکہ نیا نیا ہے۔
اس لئے نہیں چاہتے کہ اس میں دراڑیں پڑے اس لئے نواب ثنا اللہ زہری میں جلسے میں شرکت نہ کرے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مرکزی قیادت کی مشاورت سے ورکرز کنونشن کی تاریخ کا اعلان کیاجائے گا۔ نواب ثنا زہری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہاکہ پارٹی آئین کے مطابق اگر کوئی پارلیمنٹرین فنانس بل یا پھر پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرے تو اس پر جواب طلبی کی جاسکتی ہے۔
تاہم عوام میں زبانی کوئی بات کی جائے تو ان پر پارٹی جواب طلبی نہیں کی جاسکتی بلکہ جب تک وہ پارٹی فیصلوں کے خلاف نہیں جاتا اس وقت تک پارٹی اس کیخلاف نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمدنواز شریف ہمارے قائد ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔