دالبندین: بلوچستان نیشنل پارٹی دالبندین کے سینئر رہنماوں میر مہراللہ الحسنی اور ھاشم لجئی نے اپنے مشترکہ بیان میں ضلع چاغی میں افغان مہاجرین کی آباد کاری پر سخت تشویش کااظہارکیا اور کہا کہ ضلع چاغی میں روزبروز انکے شناختی کارڈز سمیت دیگر دستاویزات بن رہے ہیں ضلع چاغی میں کوئی آواز اٹھانے والا نہیں اگر اس طرح ان افغان مہاجرین کی آباد کاری کو نہ روکا گیا تو چاغی کے عوام اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔
اور اب بھی بڑی تعداد میں انہی افغان مہاجرین نے مختلف ذرائع سے بہت سارے دستاویزات بنا کر مقامی لوگوں کے لیئے درد سر بن چکے ہیں بہت سارے افغان مہاجرین نے ملازمتیں حاصل کرلی ہیں اور ان کے بچے ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے ضلع چاغی کی سیاسی و سماجی تنظیموں سول سوسائٹی اور قبائلی معتبرین کی اس اہم مسئلے پر خاموشی تعجب خیز ہے۔
اگر افغان مہاجرین کی آبادکاری سمیت ان کے دستاویزات بنانے کے خلاف ٹھوس موقف نہیں اپنایا گیا تو ہمارے آنے والی نسلیں ہمیں بھی ہر گز معاف نہیں کریں گے۔ چاغی کے عوام کو چائیے کہ وہ اپنے بچوں کی مستقبل کو روشن کر نا چاہتے ہیں۔
تو چاغی بچاؤ تحریک میں شامل ہو کر چاغی کو افغان مہاجرین سے پاک کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ااور انکے شناختی کارڈ منسوخ کیا جائے اور ان کو باعزت انکے وطن افغانستان روانہ کیا جائے۔ تاکہ ضلع چاغی سمیت پورے بلوچستان بلکہ ملک بھر میں امن وامان بہتر اور ترقی و خوشحالی کی جڑیں مضبوط ہوسکیں۔