لورالائی: پی ڈی ایم کے مرکزی رہنما مسلم لیگ ن کے مرکزی سینئر نا ئب صدر سینٹ کے سیٹنڈنگ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے چیئرمین سینیٹر سردار محمد یعقوب خان ناصر نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا پشاور ملتان اور تیرہ دسمبر کو لاہور میں ہونے والے جلسوں کے بعد حکومت کا ٹھہر نا انتہائی مشکل ہے اور شاہد ہمیں اسلام آباد مارچ ہی نہ کرنا پڑے اور اجتماعی استعفوں کی نوبت بھی نہ آئے۔
یہ بات انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ جی بی میں الیکشن سے قبل ہی وزیر اعظم نے بیان جاری کردیا کہ الیکشن پی ٹی ائی ہی جیتی گی اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے ایک مرتبہ پھر رتوں رات دھاندلی کی منصوبہ بندی کرلی ہے لیکن پی ڈی ایم اسکے خلاف لانگ مارچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کریگی ستر سالوں سے جمہوریت کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں اور کھبی بھی ملک میں جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں دیا جارہا ہے۔
پاکستان کے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے ممالک نے جمہوریت کے بدلے ہی ترقی کی لیکن ہم آج بھی پسماندگی کا رونا رو رہے ہیں جو کہ ہمارے لیئے لمحہ فکریہ کی بات ہے انہوں نے کہا کہ انجمن تاجران بلوچستان کے سیکرٹری جنرل ممتاز تاجر رہنماء اللہ داد ترین کو پشین کلی علیزئی میں شہید کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں انکے قتل سے صوبہ ایک ممتاز اور انسان دوست و تاجر رہنماء سے محروم ہو گیا ہے۔
انکا خلا ہمیشہ رہیگا انہوں نے کہا کہ صوبے میں قانون کا نام و نشان نہیں کسی انسان کی جان و مال و آبرو محفوظ نہیں وزیر اعلٰی بلوچستان اور انکی کابینہ ریموٹ کنٹرول سے صوبائی حکومت کے امور چلا رہے ہیں عوام بے یارو مدد گار اور عدم تحفظ کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صرف میڈیا کے حد تک محدود ہے میڈیا پر ترقی امن اور صوبے کو پیرس بنانے کے دعوے کر رہی ہے لیکن عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
عوام کی حالت دیکھنی ہو تو سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں جاکر دیکھیں صوبے کی ترقی دیکھنی ہو تو اندرون بلوچستان کے شاہراہوں کو دیکھیں تو دل خون کے انسوں رونے پر مجبور ہو جاتا ہے عوام پانی کے ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔
کوئٹہ میں اربوں کے فنڈز خرچ ہونے کے باوجود شہر کھنڈرات کا عملی منظر پیش کر رہا ہے کچرہ روڈوں پر عام بھکرا پڑاہے جس سے لوگ پیدل سفر نہیں کرسکتے عوام پانی پیسوں سے خرید رہے ہیں ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام ہو چکی ہے انڈر پاسز تعمیر کرنے کے بجائے پیسہ کرپشن کی نظر کیا جارہا ہے کیا یا ترقی ہے۔