|

وقتِ اشاعت :   November 13 – 2020

صحبت پور: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نویددہوارنے کہاہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔صوبے میں تعلیم،صحت سمیت تمام شعبے مفلوج ہوچکے ہیں۔عوام کا پیسہ نہ جانے کہاں خرچ کیاجارہا ہے۔انفراسٹیکچرمکمل طورپرتباہ ہے۔بچیوں کی تعلیم کیلئے اسکولز تک نہیں ہیں۔چراغ تلے اندھیرا اُوچ پاورپلانٹ سے بچلی دوسرے صوبوں کو دیاجاتاہے۔

مگر مقامی لوگ بلب جلانے سے بھی محروم ہیں۔صحبت پور کے علاقوں میں تنظیم کی یونٹ سازی کردی گئی ہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی خواتین کے ورکرزپارٹی پیغام کو گھرگھرپہنچائیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے صحبت پورمیں تنظیمی دورے کے دوران میڈیاکے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پربلوچستان سینٹرل کمیٹی ممبرمیرنذیراحمدکھوسہ،ثانیہ کاشانی،جمیلہ بلوچ،عبدالشکورمینگل، عبدالسلام مینگل،عبدالحمیدکھوسہ، عبدالحمیدمینگل،صفدرعلی ودیگرپارٹی ورکرزانکے ہمراہ تھے۔ ایم پی اے شکیلہ نویددہوارنے کہاکہ وفاق ہمارے صوبے کے 750کلومیٹرجزائزپرقبضہ کرناچاہتی ہے۔بلوچستان کے جزیرے، ساحل وسائل پرکسی کو قبضہ کرنے کی ہرگزاجازت نہیں دینگے۔حکمران جھوٹے دعوئے کررہی ہے۔غریب لوگوں کو ریلیف پہنچانادورکی بات ہے۔

یہاں تو لوگ دووقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔شکیلہ نویددہوارنے مزیدکہاکہ آج میں ضلع صحبت پور کے تحصیل فریدآبادکا دورہ کیا اور پارٹی ورکزرکیساتھ مختلف دیہاتوں میں خواتین پارٹی ورکرزکی ساتھ گئی میں نے دیکھا کہ علاقے میں ترقی نام کی کوئی چیزنہیں ہے۔یہاں کے لوگ تمام تربنیادی سہولیات سے یکسرمحروم ہیں۔تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی اور روڈزکی سہولیات عوام کیلئے خواب بن کررہ گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہ جانے فنڈزکہاں خرچ کیئے جاتے ہیں۔