کوئٹہ: ہادی شکیل پینل اور وکلاء پینل نے 28نومبر کو بلوچستان بار کونسل کے انتخابات کے لئے مشترکہ امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار سیٹھ کے انتقال سے متعلق انکوائری کرائی جائے کہ اتنے قلیل عرصے میں مرض کی تشخیص اور اس کا انتقال کیسے ہوا۔ ان خیالات کا اظہار ہادی شکیل پینل اور وکلاء پینل کے رہنماؤں میر عطا اللہ لانگو ایڈووکیٹ۔
اقبال کاسی ایڈووکیٹ، رؤف عطا ایڈووکیٹ، نصیر بنگلزئی، اجمل کاکڑ ایڈووکیٹ، ملک امین اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ، اکبر شاہ ایڈووکیٹ، سلیم اختر ایڈووکیٹ، قسیم اچکزئی ایڈووکیٹ و دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس وقار سیٹھ ایک بہادر اور نڈر جج تھے۔
جنہوں نے اپنے کیرئیر کے دوران بہترین فیصلے دیئے خاص کر سابق آمر کے خلاف فیصلے پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں اور ان کا یہ فیصلہ مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جسٹس وقار سیٹھ کے کورونا مرض سے اتنے قلیل عرصے میں انتقال کی صاف شفاف انکوائری کرائی جائے۔ اس موقع پر وکلاء رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 28نومبر کو ملک بھر میں بار کونسل کے انتخابات ہونے جارہے ہیں۔
جس کے ذریعے5سال کے لئے کابینہ کا انتخاب ہوگا بلوچستان کے بار کے کل 7نشستوں کے لئے ہادی شکیل پینل اور وکلاء پینل نے مشترکہ امیدوار لانے کافیصلہ کیا ہے کوئٹہ زون جس میں مستونگ، قلات، خضدار و دیگر شامل ہیں کے 4نشستوں کے لئے نجم الدین مینگل، مدثر ندیم، قاری رحمت اللہ اور اکبر شاہ، پشین زون جس میں پشین، قلعہ عبداللہ، ژوب، بارکھان شامل ہیں۔
کے لئے نصرالدین کاکڑ، نصیرآباد زون جس میں سبی، نصیرآباد، جعفرآباد و دیگرعلاقے شامل ہیں کے لئے عنایت اللہ مرغزانی کو منتخب کیا گیا ہے جبکہ مکران زون جس میں تربت، خاران، پنجگور، حب گوادر شامل ہیں کے لئے جلد ہی مشترکہ امیدوار کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ان کے اتحاد کا مقصد وکلاء کی فلاح وبہبود اور ان کے حقوق کے لئے مشترکہ طور پر جدوجہد کرنا ہے۔
یہ اتحاد اب سے نہیں بہت پہلے سے ہیں جنہوں نے گزشتہ دنوں مشترکہ طور پر فیڈریشن میں لالا لطیف کو سپورٹ کیا اور انہیں جتوایا۔ انہوں نے کہاکہ کوشش ہوگی کہ ذاتی مفادات کی بجائے وکلاء کے اجتماعی مفادات کے لئے جدوجہد کی جائے اوراسی جذبے کے تحت ہم نے مل کر انتخابات میں حصہ لینا کا فیصلہ کیا ہے اور انشاء اللہ وہ سرخرو ہو کر آئین کی بالادستی اورجمہوریت کے لئے کام کریں گے۔