|

وقتِ اشاعت :   November 14 – 2020

تربت: نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر میر محمد اکرم دشتی نے دشتی کھڈان میں نیشنل پارٹی کے کارکنوں اور عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشت سے دو ایم پی اے ایک مشیر اور ایک ایم این اے ہیں لیکن اس کے باوجود علاقہ بدحال اور عوام مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں اسکول، ہسپتال اور رویوں کی حالت خراب ہے سارا پیسہ کرپشن اور اقربا پروری کی نظر ہورہے ہیں۔

اجلاس سے ضلعی صدر محمد جان دشتی، تحصیل دشت صدر کہدا عزیز احمد دشتی،اور ضلعی رہنما گلزار دوست نے خطاب کیا. اور سنیر رہنما ڈاکٹر سجاد دشتی،فضل دشتی، سلیم دشتی، حمید دشتی ماسٹر الی بخش، عصا گزیر، سیٹھ ظفر سمیت کارکنان کی کثیر تعداد بھی موجود تھا مرکزی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی دشت حلقے میں 1996 کے بعد سے حکومت میں نہیں آئی ہے گزشتہ انتخابات میں پارٹی کو زبردستی اداروں سے باہر رکھا گیا۔

جس کا نقصان برائے راست عوام کو ہوا پارٹی کارکنوں نے دھاندلی اور انتخابی عمل میں مداخلت کے لیے بھرپور تحریک چلائی لیکن تاہ کامیابی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت اس حلقے میں دو ایم پی اے، ایک ایم این اے اور ایک سی ایم کوآرڈینٹر سالانہ اربوں روپے فنڈز حلقے میں آنے کے باوجود لوگ بدحال زندگی گزار رہے ہیں، اسکول، ہسپتال، روڈز اور سرکاری محکمہ جات بدحالی کا شکار ہیں۔

انھوں نے کھاکہ بندات کے نام پر کرپشن کا بازار گرم ہے۔ اانہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی نے 2013 کے الیکشن کے بعد حلقے میں نمائندگی نہ ہونے کے باوجود پارٹی کے اسپیشل سیٹس کے فنڈز سے ریکارڈ کام کیے، ٹرانسفارمرز، کمبے،واٹر سپلائی، زرعی سولرز اور روڈز سمیت بے شمار ترقیاتی کام کیے انہوں نے کہاکہ 2013 کے الیکشن کے بعد نیشنل پارٹی نے حلقے میں سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کی اور ترقیاتی کام کئے۔انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی کو مضبوط و منظم کریں اور ترقی کے سفر کا آغاز کریں۔