خضدار: ممتاز قانون دان و قبائلی شخصیت قاضی حسن علی ساسولی نے بی این پی (عوامی) کے قائد میر اسرار اللہ خان زہری کی موجودگی میں بی این پی (عوامی) میں شمولیت کا اعلان کر دیا،میر اسرار اللہ خان زہری اور بی این پی (عوامی) کی سیاست بلوچستان کی معروضی حالات کے عین مطابق اور حقائق پر مبنی ہے،اسلام آباد کی آسائشیں اور بلوچستان کی اقدار نے بھی بی این پی (عوامی) کو نظریہ سے غیر متذلذل نہیں کیا۔
اس لئے میں اپنے قبیلہ کے دیگر معتبرین کے ساتھ شمولیت کا اعلان کر رہا ہوں شمولیت کے موقع پر قاضی حسن علی ساسولی کا خطاب بی این پی کے سربراہ میر اسرار اللہ خان زہری کی جانب سے قاضی حسن علی ساسولی و دیگر کی شمولیت کا خیر مقدم اس موقع پر بی این پی (عوامی) کے رہنماوں ڈاکٹرمحمد مراد مینگل،حاجی محمد انور قلندرانی،نوابزادہ میر شاویز زہری،ڈاکٹر عمران میروانی،کامریڈ غلام حسین بلوچ،منیر احمد زہری،رئیس علی حسن موسیانی۔
یاسر چیف،بشیر احمد موسیانی،عبدالحکیم خدرانی،رئیس جنید مراد مینگل،یاسر خدرانی،سردار نواز چھانگا،حاجی غلام نبی شاہوزئی،صدام بلوچ،بابو پیر جان بلوچ،ارشاد غنی ایڈووکیٹ،و دیگر رہنماء بھی موجود تھے تفصیلات کے مطابق ممتاز قانون دان و قبائلی شخصیت قاضی حسن علی ساسولی نے ہفتے کے روز زہری ہاوس خضدار میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں قو م پرست پارٹی ہونے کے دعویدار بہت ہیں۔
مگر حقیقی قوم پرستی کی سیاست جس میں جمہوریت اور اجتماعی رائے کو اولیت دی جاتی ہے وہ بی این پی (عوامی) ہے بی این پی (عوامی) کے قائد سے لیکر کارکنان تک ہر ایک خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں بی این پی (عوامی) اس لحاظ سے دوسری جماعتوں سے مختلف اور امتیاز ی حیثیت رکھتا ہے کہ اس جماعت میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا جاتا ہے اسلام آباد کی آسائشوں سے لیکر بلوچستان کے اقتدار تک اس جماعت کی قیادت کے رویہ و نظریہ کو تبدیل نہیں کر سکا۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس جماعت کی قیادت نے ماضی قریب میں بلوچستان کے مخدوش حالات کے موقع پر اپنے ورکروں کوکسی ایسی جنگ میں نہیں دھکیل دیا جس کا نقصان بحیثیت قوم بلوچ قوم ہو ا ان تمام امتیازی حیثیتوں کی وجہ سے میں اور میری خاندان و قبیلہ کے معززین سینکڑوں ساتھیوں سمیت میر اسرار اللہ خان زہری کی قیادت میں بھر پور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بی این پی (عوامی) میں شمولیت کا اعلان کرتاہوں۔
اور یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ہر طرح سے سیاسی انداز میں پارٹی کو منظم کرنے کی کوشش کرینگے اس موقع پر بی این پی (عوامی) کے سربراہ میر اسرار اللہ خان زہری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممتاز قانون دان قاضی حسن علی ساسولی و ان کے رفقاء کی بی این پی (عوامی) میں شمولیت اس بات کی دلیل ہے کہ بلوچستان کے تعلیم یافتہ و معتبر حلقے بی این پی (عوامی) کی سیاست سے،نظریہ سے اور نظریاتی جدو جہد سے مطمین و متفق ہے۔
اور اسی بنا ء پر وہ سیاسی جدو جہد کے لئے بی این پی (عوامی) جیسے نظریاتی جماعت کا انتخاب کر رہے ہیں اور بی این پی کی ا ہم سب ملکر بلوچستان کے سماجی و سیاسی مسائل کو بہتر طریقے سے حل کر کے بلوچ قومی جہد کو آگے بڑھائیں۔
یہ وقت علم و دانش کا ہے علم و دانش کے زریعے ہی ہم دوسرے اقوام کا نہ صرف مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ اپنی ساحل و وسائل کو تحفظ بھی فراہم کر سکتے ہیں مجھے خوشی ہے کہ آج ایک تعلیم یافتہ شخصیت اپنی رفقاء کے ساتھ ہماری کاروان کا حصہ بن گیا ہے اور ان کی شمولیت سے بی این پی خصوصاً خضدار و عموماً پورے بلوچستان میں مزید منظم ہو گی