|

وقتِ اشاعت :   November 14 – 2020

کوئٹہ+ ژوب + اندرون بلوچستان: گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی جانب سے کیچ کے 114 مرد و خواتین اساتذہ کی جبری برطرفی کے خلاف جاری احتجاجی شیڈول کے سلسلہ میں گزشتہ روز ژوب ڈویژن میں شامل تمام اضلاع کی، لورالائی،شیرانی،موسیٰ خیل،بارکھان،ژوب اور قلعہ سیف اللہ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ریلیاں نکالی گئیں اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ نے احتجاج میں بھر پور حصہ لیا۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیچ کے اساتذہ کی بحالی تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکیا اس موقع پر مقررین نے کہا کہ اساتذہ کو جان بوجھ کر نان شبینہ سے بھی محروم کیا گیا ہے اساتذہ کوبر طر ف کرکے اُن کا معاشی قتل کیا گیا ہے اور جی ٹی اے ہر صورت میں اساتذہ کے حقوق کا دفاع کرئے گا اُنہوں کہا ہے کہ حکومت اساتذہ کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرے اور اُن کے مطالبات کو فوری طور پر حل کرئے مقررین نے مزید کہا کہ اگر کیچ کے اساتذہ کو بحال نہ کیا گیا۔

تو جی ٹی اے مزید سخت سے سخت احتجا ج پر مجبور ہوگا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی اُنہوں نے کہا کہ جی ٹی اے کسی بھی صورت میں اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگا دریں اثنا ء جی ٹی اے کوئٹہ ڈویژن کے صدر حاجی حمید اللہ زڑسواند جنرل سیکر یٹری عظمت اللہ رئیسانی نے کہا ہے کہ کیچ کے اساتذہ کی بحالی کے لیے جاری احتجاج کے سلسلہ میں 16 نومبر بروز سوموار کوئٹہ ڈویژن کے تمام اضلاع کوئٹہ،پشین اور قلعہ عبداللہ کے اساتذہ کوئٹہ میں بھر پور احتجاج کریں گے۔

اور موقع پر ایک بہت بڑی ریلی نکالی جائے گی اور مظاہر ہ کیا جائے گا جس کی قیادت جی ٹی اے کے مرکزی صدر حاجی حبیب الرحمن مردانزئی کریں گے۔وہ مختلف سکولوں میں اساتذہ سے بات چیت کررہے تھے اُنہوں نے کہا کہ حکومتی رویے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک بار پھر جی ٹی اے کو امتحان میں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے اُنہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے سینکڑوں اساتذہ جی ٹی اے کی کال پر سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہیں۔