نوشکی: سیندک پروجیکٹ ریکوڈک پراجیکٹ اور بی ایم ای پروجیکٹس سے ملازمین کی جبری برطرفی اور انتقامی کارروائی کے خلاف نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کی جانب سے نوشکی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور کارکنان نے شدید نعرہ بازی کی احتجاجی مظاہرے سے نیشنل پارٹی کے ریجنل رہنما فاروق بلوچ. بیبرگ بلوچ. رازق زہری. بی ایس او پجار کے رہنما حقنواز شاہ. این پی کے قاسم بلوچ اور میر ناصربادینی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک سازش کے ملازمین کو تنگ کیا جاتا ہے انہیں ذہنی ٹارچر کیا جاتا اور جبری برطرفی کی دھمکی دیکر انہیں ذہنی اذیت پہنچا رہے ہیں۔
جو قابل مذمت اقدام ہے، نیشنل پارٹی ملازمین کے ساتھ ایسے ناروا سلوک کو کسی صورت برداشت نہیں کریگی نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار متاثرہ ملازمین کے ساتھ کھڑے ہے انکی بھرپور آواز بنے گی ان ناانصافیوں کیخلاف ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی انہوں نے کیچ کے 114 اساتذہ کی برطرفی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔دریں اثناء نیشنل پارٹی رخشان ریجن کی کال پر سیندھک پروجیکٹ کے ملازمین کے استحصال اور بی ایم ای کمپنی کی بلوچ دشمن پالیسیوں کے خلاف دالبندین پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔
جس سے نیشنل پارٹی کے ضلعی آرگنائزر میر عاطف بلوچ، حافظ غلام اللہ بلوچ اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع چاغی میں قائم سیندک پروجیکٹ میں چائینیز مینجمنٹ معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے تیسرے مائیننگ کو جو کہ 2021 میں شروع ہونا تھا اس کو 2020 کے شروع میں اسٹارٹ کرکے بلوچستان حکومت کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔
کرونا وائرس کے نام پر سختی کرکے گذشتہ نو مہینے سے ملازمین کو قیدیوں کی طرح رکھا گیا ہے ملازمین جن کی فیملییز آٹھ دس کلومیٹر کے فاصلے پر مختلف کلیوں میں رہ رہے ہیں انھیں بھی گذشتہ ساتھ آٹھ مہینوں سے ان کے گھروں میں جانے کیلئے نہیں چھوڑا جارہا ہے چائینیز مینجمنٹ پاکستانی آفیسران کی ملی بھگت سے بلوچی اور اسلامی روایات کو پامال کررہی ہے پروجیکٹ میں آفیسران کا رویہ ملازمین کے ساتھ غلامانہ طرز پر جاری ہے۔
آفیسران ملازمین کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بی ایم ای کمپنی بلوچستان میں صرف دو بلوچ علاقوں نوکنڈی اور خضدار میں کام کر کے سالانہ اربوں روپے کما رہی ہے دوسری جانب بلوچستان حکومت کے ساتھ پچاس فیصد حوالے سے نہ ہی بلوچستان کے بالا حکام کو خبر ہے نہ ہی بلوچستان کے بلوچوں کو اس ادارے میں کوئی آفیسر جیسی پوسٹ پر تعینات کی گئی ہو نوکنڈی بیس کیمپ اور مائیننگ سائیٹ پاچن کوہ میں 27 سے زاہد لوکل ملازمین نوکنڈی سے تعلق رکھتے ہیں۔
جو کہ گذشتہ سترہ سالوں سے ڈیلی ویجز کے طور پر کام کررہے ہیں جو کہ ظلم و ناانصافی کے مترادف ہے حالانکہ ان ملازمین کو انتہائی کم تنخواہ دی جاتی ہے اور ان مزدوروں سے یومیہ دس بارہ گھنٹے تک کام لیا جاتا ہے جو کہ مزدوروں کے بین الاقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے اس لیے ٹائمنگ پر نظرثانی کرکے 8 گھنٹے کردی جائے کمپنی نے 2004 سے لے کر تاحال سوشل سیکٹر کوئی قابل تعریف کام نہیں کیا ہے۔
مگر سوشل سیکٹر پر کروڑوں روپے نکال کر کرپٹ مافیا نے ہڑپ کر لی اور مقامی ملازمین کو جان بوجھ کر تنخواہیں پندرہ بیس روز لیٹ دے کر ذہنی کوفت کا شکار بنا دیا جاتا ہے ملازمین کو کوئی چھٹی نہیں دی جاتی اور بی ایم ای کمپنی کی آفیسران کیمپ میں سیکورٹی ہونے کے باوجود پستول لے کر گھومتے ہیں جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے انہوں نے کہا کہ بی ایم ای کمپنی کی مقامی لوگوں کے ساتھ ظلم و ناانصافی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔
نیشنل پارٹی سیندھک پروجیکٹ اور بی ایم ای کمپنی کی مظالم اور ملازم کش پالیسیوں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرے گی اور کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔