|

وقتِ اشاعت :   November 15 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان یوتھ اینڈ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کی تمام قومی شاہراہوں کو دو رویہ کرتے ہوئے ان پر ٹراما سینٹرز تعمیر کئے جائیں تاکہ حادثات میں کمی آسکے اور قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچا یا جائے ان خیالات کااظہار بلوچستان یوتھ اینڈ سول سوسائٹی کے چیئر مین نجیب یوسف زہری،پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ۔

بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب،نمرہ پرکانی،بسمل بلوچ،ڈاکٹر صفی اللہ ودیگر نے روڈ حادثات میں شہید ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیااس سے قبل جامعہ بلوچستان سے کوئٹہ پریس کلب تک ٹریفک حادثات میں شہید ہونے والوں کی یاد میں واک کا اہتمام کیا گیا جس میں بلوچستان یوتھ اینڈ سول سوسائٹی کے نمائندوں،طلباء ودیگر نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ ٹریفک حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

رواں سال مارچ سے لیکر ستمبر تک بلوچستان کے قومی شاہراہوں پر 5451روڈ حادثات میں 747افراد شہید جبکہ 8ہزار 257زخمی ہوگئے یہ سب کچھ تنگ شاہراہوں کی وجہ سے ہورہا ہے اس سلسلے میں انہوں نے 12مارچ 2020سے کراچی ٹو کوئٹہ پیدل لانگ مارچ شروع کیا اور جب وہ وڈھ تک پہنچے تو کورونا کی وجہ سے انہیں پیدل مارچ کو موخر کر نا پڑا اس دوران این ایچ اے حکام کی جانب سے ان کے ساتھ رابطہ کیا گیا کہ مارچ ختم کیا جائے ان کے مطالبات پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا مگر مارچ ختم کرنے کے بعد ابھی تک کسی بھی شاہراہ پر کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔

ان روڈ حادثات میں بلوچستان کے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت بیٹے ہم سے جدا ہوئے جن میں کمشنر طارق زہری،ڈاکٹر امان اللہ ترین،ڈاکٹر یاسین بلوچ،ڈاکٹر عطاء نیچاری،پروفیسر جان پرکانی ودیگر شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب میں شرکت کیلئے مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو دعوت دی گئی تھی مگر بد قسمتی سے اس اجتماعی نوعیت کے مسئلے کو کسی نے سنجیدہ نہیں لیا اور آج کے تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ دوبارہ وڈھ سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے چمن تک پیدل لانگ مارچ کرینگے اگر پھر بھی کوئی شنوائی نہ ہوئی تو وہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے پرمجبور ہونگے تقریب کے آخر میں روڈ حادثات میں شہید ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی گئی۔دریں اثناء عالمی یوم ٹریفک حادثات کے موقع پر بلوچستان یوتھ اینڈ سول سوسائٹی کے زیر اہتمام ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے شعور و آگاہی کے حوالے سے ریلی نکالی گئی۔

ریلی شہید پروفیسر عبدالرزاق چوک خضدار سے برآمد ہوئی ریلی کے شرکاء بلوچستان یوتھ اینڈ سول سوسائٹی کے مرکزی وائس چیئر مین عرفان بلوچ کی قیادت میں مختلف شاہراہوں سے گزرتے ہوئے پریس کلب پہنچ گئے ریلی کے شرکاء سے بلوچستان یوتھ اینڈ سول سوسائٹی کے مرکزی چئیرمین عرفان بلوچ۔جاوید بلوچ۔قدیر بلوچ اور عمر جان نے خطاب کیا مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کے شاہراہوں نے جتنے قیمتی جانوں کا نقصان کیا ہے۔

اتنی جانی نقصان کسی اور میدان میں نہیں ہوا ہے صرف کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ N25میں ماہانہ آٹھ سو سے ایک ہزار ٹریفک حادثات رونما ہوتے ہیں جن میں درجنوں اموات ہوتے ہیں اس قومی شاہراہ سمیت بلوچستان کے مختلف شاہراہوں پر کمشنر جیسے عہدے سے لیکر فورسیز کے جوانوں تک ڈاکٹروں سے لیکر انجینیروں تک اہل علم سے لیکر قبائلی شخصیات تک عوامی نمائندوں سے لیکر شاعر و ادیبوں تک صحافیوں سے لیکر ایکٹروں تک طلباء۔

سے لیکر سماجی کارکنان تک ہر طبقہ سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہیں مگر افسوس اتنی نقصانات کے باوجود آج تک کسی بھی حکومت نے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ جسے اب قاتل شاہراہ کہا جاتا ہے کو دو رویہ کرنے پر سنجیدگی سے غور نہیں کی ہے مقررین نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ قومی شاہرات پر جانی نقصان ہونے کے بعد دوسرے نمبر پر منشیات سے جانی نقصانات ہو رہے ہیں اور یہ بات بھی ہم بڑے افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر منشیات بھی بڑی مقدار میں سمنگلنگ کی جاتی ہے مقررہ وقت پر مقررہ چیک پوسٹوں سے گزرنے کی خاطر میں تیز رفتاری کی جاتی ہے۔

اور یہی تیز رفتاری بھی ٹریفک حادثات کا سبب بن رہی ہیں اس کے علاوہ سوراب سے لیکر لسبیلہ تک کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر موٹروے پولیس تعینات نہیں اس کا بھی ڈرائیور حضرات بھر پور فائدہ اٹھا کر تیز رفتاری کرتے ہیں اس لئے سب سے زیادہ ٹریفک حادثات سوراب سے لیکر لسبیلہ تک ہو رہے ہیں ہم جانتے ہیں کہ ٹریفک حادثات کو ختم کرنا ممکن نہیں مگر انہیں کم سے کم کرنا حکومت،انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی زمہ داری ہیں۔

اور اس زمہ داری کو احسن طریقے سے ادا نہیں کیا جا رہا اگر ملک کے شاہراوں کا پیمائش کیا جائے تو ملک کے سڑکوں میں صرف گیارہ فیصد بلوچستان میں قائم ہے مگر اگر حادثات کا ریشو دیکھا جائے تو ٹریفک حادثات سب سے زیادہ بلوچستان میں ہو رہے ہیں مقررین نے کہا کہ پورے بلوچستان کے قومی شاہرائیں اگر ڈبل نہیں ہو سکتی ہے کم از کم ابتدائی طور پر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ این 25 کو تو ڈبل کیا جا سکتا ہے۔

ہم وفاقی و بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے قیمتی جانوں کو نقصان ہونے سے بچانے کے لئے ابتدائی طور پر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو ڈبل کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں ریلی کے اختتام پر بلوچستان میں ٹریفک حادثات میں شہید ہونے والے ہزاروں افراد کے یاد میں پریس کلب کے اندر شمع روشن کئے گئے اور مرحومین کی ایصال ثواب کے لئے دعا بھی کیا گیا۔