|

وقتِ اشاعت :   November 16 – 2020

کوئٹہ: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء و سابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ایسے کسی بھی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی جس میں راتوں رات بننے والی ایک پارٹی کو غیر آئینی و غیر جمہوری طورپر حکومت حوالے کیا گیا ہو، پی ڈی ایم کے کسی بھی پلیٹ فارم پر اے این پی کو حکومت سے الگ ہونے کا کوئی مشورہ نہیں دیا گیا۔

جن لوگوں نے اے این پی کو بلو چستان حکومت کا حصہ رہنے کا طعنہ دیا ہے ان کے متعلق بات کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ عبدالرحیم زیارتوال نے کہاکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا شروع دن سے موقف واضح ہے کہ ہم کسی بھی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔خان شہید عبدالصمد خان سے لے کر آج تک پشتونخوا میپ ملک میں آئین کی حکمرانی اور جمہوریت کی بالادستی کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ملک چلانے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی میں ہے جب تک ملک میں ملکی آئین پر اس کی اصل رو کے مطابق عمل درآمد اور پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم نہیں کی جاتی اس وقت تک نہ تو جمہوریت مضبوط ہوگی اور نہ ہی غیر آئینی قوتوں کا راستہ روکا جاسکے گا اس لئے ضروری ہے کہ ملک کو تمام قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ 2018کے عام انتخابات کو 10گھنٹے کے اندر ہی تمام پارٹیوں نے مسترد کیا۔

انہوں نے کہاکہ پشتون بلوچ صوبے میں بدترین دھاندلی کی گئی اور راتوں رات ایک پارٹی بنائی گئی اور اسے اقتدار حوالے کیا گیا جس کی وجہ سے آج صوبے میں ترقی کام نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ مو جو دہ حکمرا نوں نے صوبے کو بحرانوں سے دوچار کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کسی بھی ایسے حکومت کا حصہ نہیں بنے گی جو کہ عوام کے ووٹوں کی بجائے غیر آئینی و غیر جمہوری طریقے سے منتخب ہوئی ہے۔

موجودہ حکومت صوبے کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے۔ کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے زیر اہتمام ہونے والے جلسے میں عوام نے اس حکومت سے بیزاری کااظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کسی بھی پلیٹ فارم پر اے این پی کو حکومت سے علیحدہ ہونے کا طعنہ ااور مشورہ نہیں دیا اور نہ ہی ہم ایسا کریں گے، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھی ایسا کوئی بھی مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے۔