|

وقتِ اشاعت :   November 16 – 2020

کوئٹہ: بولان میڈیکل کالج بحالی تحریک کے رہنماؤں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ نااہل میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کسی قانون کو خاطر میں نہیں لارہی ہٹ دھرمی انتہاہ کو پہنچ چکی ہے اس طرح کے متنازعہ انتظامیہ کے ہوتے ہوئے ادروں کا استحکام خام خیالی ہے طلباء کے سکالرشپ اور ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی احتجاج پر مجبور کررہی ہے۔

حکومت وعدے پورے کرے ایکٹ میں ترامیم مکمل کرے ملازمین کے خلاف کی گئی انتقامی کاروائیوں کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔نااہل میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کے ہوتے ہوئیمسائل حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوتے جارہے ہیں۔

حکومت نے مذاکرات میں انتقامی کارروائیوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا اب بھی یونیورسٹی انتظامیہ رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ طلباء کے ہاسٹلز کے مسائل حل طلب ہیں اسی طرح میڈیکل کالج میں سابقہ داخلہ پالیسی بحال اور ملازمین کے بچوں کا کوٹہ بحال کیا جائے جن ملازمین کے بچے منتخب ہوگئے تھے انکے ایڈمشن آڈر جاری کئے جائیں۔