|

وقتِ اشاعت :   November 16 – 2020

کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی جنرل سیکرٹری و سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم عوامی مسائل کے حل، جمہوریت کی بحالی،صاف و شفاف پارلیمانی نظام کے قیام کی جدوجہد کا پلیٹ فارم ہے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ایسے بیانات دینے سے گریز کریں۔

جن سے پی ڈی ایم کے اتحاد کو نقصان پہنچے، گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج تین دن پہلے بتا دینے والے اینکرز اور تجریہ کاروں سے پوچھا جائے کہ انہیں یہ نتائج کس نے بتائے۔ یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی، انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ملک میں جمہوریت کی بحالی، آئین و پارلیمنٹ کی بالا دستی،عوامی مسائل کے حل کا پلیٹ فارم ہے۔

جس پر تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ایسے بیانات دینے سے گریز کریں جن سے پی ڈی ایم کو نقصان پہنچے اور دراڑ آئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے پی ڈی ایم کے فورم پر جن مسائل کی نشاندہی کی ہے انکے لئے اسٹینڈ لینے پر اپنی حکومت گنوائی، 2018کے انتخابات میں مینڈیٹ چھین لیا گیا پارٹی قیادت آج بھی جیلیں کاٹ رہی ہے۔

اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم کسی بھی قسم کی خفیہ ڈیل کا حصہ بنیں مریم نواز شریف نے بھی واضح کیا ہے کہ جو بات ہوگی وہ عوام کے سامنے کی جائیگی انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اپنے بیانیے پر قائم و دائم ہے اور رہے گی، جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں جو کچھ ہوا وہ عوام کے سامنے ہے۔

تین دن پہلے کیسے اینکر پرسن اور تجزیہ کاروں نے کیسے بتادیا کہ مسلم لیگ(ن) کو دو نشتیں ملیں گی گلگت میں مریم نواز شریف کی انتخابی مہم میں جس طرح عوام نے انکاساتھ دیا و ہ سب کے سامنے ہے لوگوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہیں تین دن پہلے ہی نتائج کیسے پتا چل گئے تھے اور ووٹنگ کے ایک منٹ بعد گنتی کیسے مکمل کرلی گئی ایسی باتیں مثبت نہیں ہیں۔