کوئٹہ: بی ایس او پجار کے مرکزی کمیٹی کے ممبر گہنور بلوچ،طارق عزیز بلوچ بی ایس او پجار تمبو زون کے آرگنائیزر امجد بلوچ ڈپٹی آرگنایزر میر حسن بلوچ ڈیرہ مراد جمالی کے یاسر عرفات بلوچ، رضوان بلوچ، زاہد بلوچ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایس او پجار نے روزِ اول سے کوشش کی ہے کہ وہ صوبے کی پسماندہ علاقوں میں بہترین تعلیم اور طلبا کی غضب شدہ حقوق کے لیے حصول کے لئے اول درجے کا کردارا دا کرے۔
انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں تعلیمی صورتحال بالکل نفی کی طرف جارہی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ گوٹھ نصیرخان ہجوانی میں طلبا ایک ٹیچر کے حصول کے لیے سراپا احتجاج ہے انہوں نے 18نومبر کو گوٹھ نصیرخان ہجوانی کی طرف سے ایک ٹیچر کی عدم موجودگی کے خلاف انوکھا لانگ مارچ کر رہے ہیں جو تعلیمی پسماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے پورے بلوچستان میں اسکولوں کا یہی حال ہے بیشتر اسکولوں کی بلڈنگ موجود نہیں بیشتر اساتذہ اسکول نہیں جاتے۔
مزید انہوں نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن میں تعلیمی پسماندگی عروج پر ہے اسکولز بھوتاروں کی بٹھک بن چکے ہیں کلسٹر فنڈز کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں جسکی وجہ سے کئی اسکول خستہ حالی شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 18 نومبر کی بچوں کی ٹیچر کی عدم موجودگی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی کا حمایت کرتے ہیں اور وزیراعلی بلوچستان، وزیرتعلیم بلوچستان، سیکٹری ایجوکیشن سے مطالبہ کرتے ہیں جلد ان مسائل کا نوٹس لیا جائے بصورت دیگر بی ایس او پجار اسکے خلاف بھر پور احتجاجی تحریک چلائیگی۔