کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے عوامی نیشنل پارٹی کوصوبا ئی حکومت میں رہنے سے متعلق کوئی طعنہ نہیں دیا بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور حکومتی اراکین نے اے این پی کو دو میں سے ایک کشتی میں سوار ہونے کے مشورے دیئے ہیں، ایمل ولی خان ہمارے لئے قابل احترام ہیں وہ باچاخان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کے پشین جلسے اور کوئٹہ میں بیانات باچاخان اور عوامی نیشنل پارٹی کا موقف نہیں ہوسکتا، اے این پی،پی ڈی ایم میں وفاقی حکومت کے خاتمے کے لئے ہمارے ساتھ ہیں ان کے صو با ئی حکومت میں رہنے پر اپوزیشن جماعتوں نے پہلے اعتراض کیا ہے نا ہی آئندہ ایسا کریں گی اگر جمعیت علماء اسلام کو بلوچستان کے مو جو دہ حکومت میں شامل ہونے کا موقع بھی دیا جائے تواس کا حصہ نہیں بنیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی خیبر پشتونخوا کے صدر ایمل ولی خان کے بیان پر دکھ اور افسوس ہوا گزشتہ روز جلسے میں موقف اختیار کیا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی حکومت سے الگ ہو کر مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کو اقتدار میں شامل ہو نے کاموقع نہیں دے گی۔
پی ڈی ایم میں شامل جمعیت علماء اسلام اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سمیت کسی بھی جماعت نے اے این پی کو حکومت سے الگ ہونے کا نہیں کہا،جمعیت علماء اسلام اور پی ڈی ایم میں شامل کسی بھی جماعت نے اے این پی کو طعنہ نہیں دیا کہ وہ حکومت میں ہے اور حکومت کو چھوڑ کر اپوزیشن میں چلی جائے وزیراعلیٰ بلوچستان اور حکومتی اراکین نے خود کہا ہے کہ اے این پی اپوزیشن یا حکومت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے ان کو تو جواب نہیں دیا جا سکا۔
جن لوگوں نے اے این پی کو حکومت سے الگ ہونے یا دو میں سے ایک کشتی میں سوار ہونے کا مشورہ دیا ان کے متعلق اے این پی کا موقف ہی سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہاکہ ایمل ولی خان ہمارے لئے قابل احترام ہیں کیونکہ وہ باچاخان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ایک طرف جمہوریت کے استحکام کی تحریک کی جدو جہد کے لئے پی ڈی ایم کا ساتھ دیا جا رہا ہے تو دوسری جا نب ایسے بیا نا ت دئیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم سیاسی و جمہوری لوگ ہیں اور بلوچستان کی مو جو دہ حکومت کا حصہ نہ پہلے بننے کی خواہش تھی اور نہ ہی آئندہ ایسا کریں گے۔