|

وقتِ اشاعت :   November 29 – 2020

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلو چستان جام کمال خان نے کہاہے کہ اگر نظام درست انداز سے چلے گا تو تمام امور بھی احسن طریقے سے رواں رہینگے کسی بھی معاشرے اور ملک کے کیلئے ایک درست نظام کا عملی نفاذ اہمیت کا حامل ہے دنیا کے ترقیافتہ ممالک کی ترقی میں موثر نظام کے عمل دخل سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ہماری حکومت بھی نظام کی بہتری کے لئے ریفارمز کی راہ پر گامزن ہے۔

ان خیالات انہوں کوئٹہ میں چھٹی نیشنل ورکشاپ بلو چستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں کمانڈ ر سدرن کمانڈلیفٹینٹ جنرل وسیم اشرف،میجر جنرل انعام حید رملک جی او سی 41ڈویژن نے بھی شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اچھی تعلیم، صحت بنیادی ضروریات زندگی اور روزگار کی موثر فراہمی ہر عام آدمی کی ضرورت ہے۔

یہ وہ بنیادی اجزا ہے جو عام کی زندگی کو بہتر بناتی ہے اور اس کی تسلسل کے ساتھ فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے موثر حکمت عملی کے ساتھ موجودہ نظام میں اصلاحات کا عمل ناگزیر ہے انہوں نے کہاکہ ایک موثر نظام کے نفاذ کیلئے اداروں کا مستحکم ہوناضروری ہے جو کہ ایک میکنزم کے تحت مجموعی طورریاست کی تمام بنیادی ستونوں اور ملک کی تمام اکائیوں کواکھٹا رکھ سکے انہوں نے کہاکہ اس کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ میرٹ کو پرموٹ کیا جائے ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ تمام فیصلے میرٹ پر کئے جائیں اور اس کا بہترین حل یہی ہے کہ اسے دن بدن مزید بہتر کیا جائے اور جہاں کمزوریاں ہیں انہیں بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں پہلی بار بڑے پیمانے پر سٹرکو ں کا جال بچھایا جارہا ہے گزشتہ مالی سال میں 2500کلو میٹر سٹرکیں بنائی گئی ہیں انشاء اللہ اس سال 2700کلو میڑ سٹرکیں بنائی جائیں گی کوئٹہ میں تیس ارب روپے کے ترقیاتی کام جاری ہیں پہلی دفعہ سریاب روڈ کے توسیع کا منصوبہ مرتب کیا گیا ہے جو ہماری حکومت کا سب بڑا پراجیکٹ ہے جوائینٹ روڈ کی توسیع کا کا م مکمل کرلیا گیا ہے۔

جبکہ سبزل روڈ کی توسیع کا کام جاری ہے کوئٹہ کی ماسٹر پلانگ کی جاری ہے کوئٹہ میں پہلا کینسر ہسپتال تعمیر کیا جارہاہے اسی طرح شہرمیں سات سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیے جارہے ہیں جن میں تین سپورٹس کمپلیکس کا باقاعد ہ افتتاح کردیا گیا ہے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے بڑے ڈیمز تعمیر کیے جا رہے ہیں محکمہ واسا کو فعال کیا گیاہے جس نے ریونیوجنریشن شروع کردیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے صوبے میں بلو چستان یونیورسٹی کیمپسز،نئے ٹیکنیکل کالجوں کے قیام کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل لائبیریوں کا قیام عمل لایا جارہے ہے۔ حکومت بلو چستان نے پچھلے اڑھائی سالوں میں ریونیو کو تقریباً دوگنا کر دیا ہے سوشیو اکنامک ترجیحات پر خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ حکومت پی ایس ڈی پی میں بڑی اہم اور بنیادی تبدیلی لائی ہے۔

شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم پلان کی بنیاد پر تیار شدہ اسکیمیں بغیر کانسپٹ نوٹ کے شامل نہیں کی جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ بلو چستا ن معدنی وسائل سے مالا ما ل صوبہ ہے یہاں کے مائنز اینڈ منرلز صوبے کا اصل سرمایہ ہے۔

بلو چستان کے پوشید ہ ذخائر کو بروئے کار لایا جارہا ہے شرکاء نے وزیر اعلیٰ سے صوبے کے امن وامان،جغرافیائی صورتحا ل،معیشت،سوشواکنامک،ترقیاتی منصوبوں اور دیگر شعبوں سے متعلق سوالات کئے جن کہ وزیراعلیٰ نے تفصیلی جوابات دیے بعدازاں وزیر اعلیٰ نے نیشنل ورکشاپ بلو چستان کے شرکاء کو اسناد اور شلیڈ بھی دیئے۔