|

وقتِ اشاعت :   November 30 – 2020

کوئٹہ نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ملتان میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک سے سلیکٹڈ حکومت بوکھلا گئی ہے بلوچستان کی عوام کو سماج دشمن عناصر کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے بلوچستان اور سندھ کو تقسیم کرنے کی سازشوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

پروفیسر لیاقت سنی کا اغوا قابل مذمت اقدام ہے ریاست عوام کے جان و مال کی حفاظت اور پروفیسر کی بازیابی کو یقینی بنائے ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز سماجی رابطے ویب سایٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کیاڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ حکومت پی ڈی ایم کے احتجاجی تحریک سے بوکھلا گیا ہے رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاریاں قابل مذمت ہیں کارکنوں کو فورا رہا کرکے پی ڈی ایم کے جلسہ عام میں رکاوٹیں ڈالنا بند کیا۔

بلوچستان کو سماج دشمن عناصر کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے پروفیسر لیاقت سنی کا اغوا قابل مذمت اقدام ہے ریاست عوام کے جان و مال کی حفاظت اور پروفیسر کی بازیابی کو یقینی بنائے۔بلوچستان اور سندھ کو تقسیم کرنے کی سازشوں کا آغاز کردیا گیا ہے بلوچستان کے کوسٹل علاقوں کے تمام زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے کراچی اور بلوچستان کے ساحل کو ملا کر ایک وفاقی یونٹ بنانے کی سازش کا ماسٹر پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے۔

جس پر موجودہ حکومت عملدرآمد کرنا چاہتا ہے۔دریں اثناء نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو سماج دشمن عناصر کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے پروفیسر لیاقت سنی کا اغوا قابل مذمت اقدام ہے ریاست عوام کے جان و مال کی حفاظت اور پروفیسر کی بازیابی کو یقینی بنائے حکومت کی بوکھلاہٹ ملتان میں کھل کر سامنے آگئی ہے۔

جلسہ عام کو روکنے کے لیے نیٹ ورک و راستے بند کرنا حکومت کی کمزوری کی دلیل ہے تبدیلی سرکار خوف و ڈر کا شکار ہوکر پوری ریاستی قوت کو سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو سماج دشمن عناصر کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے پروفیسر لیاقت سنی کا اغوا قابل مذمت اقدام ہے۔

ریاست عوام کے جان و مال کی حفاظت اور پروفیسر کی بازیابی کو یقینی بنائے انہوں نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی کی ضلع مستونگ سے جبری گمشدگی کی پرزور الفاظ میں مزمت کرتے ہیں بلوچستان میں کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ محفوظ نہیں رہے پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی کو جلد باحفاظت بازیاب کیا جائے انہوں نے کہا کہ حکومت پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک سے بوکھلا گئی ہے۔

رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاریاں قابل مذمت ہیں کارکنوں کو فورا رہا کرکے پی ڈی ایم کے جلسہ عام میں رکاوٹیں ڈالنا بند کی جائیں انہوں نے کہا کہ جلسہ عام کو روکنے کے لیے نیٹ ورک و راستے بند کرنا حکومت کی کمزوری کی دلیل ہے تبدیلی سرکار خوف و ڈر کا شکار ہوکر پوری ریاستی قوت کو سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔