کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ممبرسینٹرل کمیٹی چیئرمین جاوید بلوچ نے گوادر میں باڑ لگا نے پر شدیدردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ گوادر بلوچستان کی شہ رگ اوربلوچ قوم کی دھڑکن ہے۔
گوادر کو باڑ لگانے کا مطلب ہے اس کو باقی بلوچستان سے الگ کرنے کے مترادف ہے جب کہ بلوچستان کے لوگ سمجھتے ہیں کہ گوادر بلوچستان کی شہ رگ ہے گوادر بلوچستان کی پہچان ہے اس کو بلوچستان کے عوام کیلئے نوگوایریا بنا کربلوچ قوم کو ان ہی کی ریاست سرزمین اورملکیت سے محروم رکھا جارہاہے حکمران ہوش کے ناخن لے اور اس طرح کے غیرشعوری اقدام سے بلوچستان میں مزید نفرت وانتشارکو ہوادیرہی ہے ۔
عوام کی خوشحالی رابطوں کوقریب لانے کی بجائے ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہیے جس سے علاقے میں بدظنی اور بدگمانی پیدا ہوانہوں نے کہا بلوچستانی عوام اور گوادر لازم و ملزوم ہیں مسلط کردہ فیصلوں سے ہمیشہ دوریاں پیدا ہوئی ہیں انتشار پھیلا ہے کیونکہ بلوچستان سترسالوں سیاستحصال اورمعاشی سیاسی نابرابری کاشکارہے ۔
گوادرسی پیک کے تناظرمیں معاہدات سے بلوچستان کوپہلے ہی نظراندازکرکے دھوکہ رکھاگی اسی پیک گوادرکے نام سے باقی تمام علاقوں میں سی پیک روڈزبنادیئے گئے بنیادی انفرسٹکچر فراہم کئے گئے لیکن ساحل کامالک ہوتے ہوئے بھی ساحل کے قریب پیاساہی رہا حتی کہ سی پیک کے اسٹڈی اسکالر شپ سے بھی اہل بلوچستان اورگوادر محروم رہااب نہ جانے کس خیال سے گوادرمیں باڑ لگایاجارہاہے۔
عوام عدم تحفظ کاشکارہے گوادرکیماہی گیرنان شبینہ کامحتاج ہے ان کا معاشی قتل عام کیاجارہاہے اب باڑ لگاان کی روزگار اور بلوچستان کے عوام سیرابطہ ہی کو ختم کرکیریاست کے اندرریاست کے بعدجدیدطرزکالونی دیکھاجاہییہ عمل نیوکالونی وارسے تشبیع ہے ۔
جس کے مظمرات انتہائی تشویشناک ہیں بی این پی قیادت ان ہوامل کوبغور مشاہدہ کرکے ان سازچوں کوبھانپ رہی ہے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا جس کے خطرناک نتائج کی ذمہ داری وفاق اورجام سرکارہوگی۔