|

وقتِ اشاعت :   December 11 – 2020

ڈیرہ مرادجمالی: پیپلز پارٹی کے مرکزی سینڑل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن سابق صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی نے کہاکہ محکمہ ایجوکیشن نصیر آباد میں اساتذہ کی بھرتیوں میں سی ٹی ایس پی کے ٹیسٹ پر میرٹ پر ہونے والے امیدواروں کی حق تلفی میرٹ کا جنازہ نکلا گیا ہے۔

اور ڈی آر سی کمیٹی کی جانب سے فیل امیدواروں کو کامیاب قرار دینا تعلیم دشمن اقدام ہے بے ضابطگیوں کے ثبوت ڈی آر سی کمیٹی کے چیئرمین وڈپٹی کمشنر کے حوالے کر دیئے گئے ہیں وزیراعلی بلوچستان وزیراعلی تعلیم چیف سیکریڑی بد دیانتی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی ای او ایجوکیشن نصیر آباد کو معطل کرکے انکوائری کی جائے ان خیالات کا اظہار عمرانی ہاؤس ڈیرہ مرادجمالی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔

میر محمد صادق عمرانی نے کہاکہ بلوچستان میں محکمہ تعلیم میں سی ٹی ایس پی کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی مشکوک ہوچکی ہے سی ٹی ایس پی میں 51 نمبر حاصل کرنے والے امیدوار 19نمبر حاصل کرنے والے فیل امیدواروں کو ڈی آرسی کمیٹی نصیر آباد نے پاس کرکے تعنیاتی کے آرڈرز جاری کردئیے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے محکمہ ایجوکیشن میں قابل امیدواروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

بلکہ جاہل نا لائق افراد بھرتی کرکے پڑھے لکھے بلوچستان کے خواب کو سرد خانہ میں ڈال کر جاہل صوبے بنانے پر گامزن ہیں ایسے افراد نوجوان نسل صوبے سے مخلص نہیں ہوسکتے ہیں ایک سوال کے جواب میں کہاکہ بے ضابطگیوں کی دستاویزات ڈی آرسی کے چیئرمین کے حوالے کر دیئے گئے ہیں ۔

انصاف نہ ملا عدالت عالیہ سے رجوع کریں گے مزید کہا کمشنر نصیر آباد کو تحقیقات کیلئے درخواستیں ضرور دیں گے لیکن سود مند ثابت نہیں ہوگا یہ ایسا اقدام ہوگا کہ قاتل منصف کو انصاف کیلئے درخواست دینے کے مترادف ہے۔