کوئٹہ: جمعیت علما اسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے کہا ہے کہ جمعیت علما اسلام لانگ مارچ سے قبل بلوچستان کے عوام اور کارکنوں میں بیدار کرنے کے لئے 2جنوری کو خضدار13جنوری کو لورالائی اور17جنوری کو نصیرآباد ڈویژن میں حکومت سلیکٹڈ حکومت کے خلاف احتجاج کرے گی اور تینوں ڈویژن سے منسلک اضلاع کے ضلعی امرا اور کارکن احتجاج کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
پی ڈی ایم کے جلسوں سے سلیکٹڈ حکمران خوفزدہ ہے اور اب وہ مجبور ہے کہ وہ 31جنوری سے قبل ہی گھر چلے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت کے صوبائی دفتر میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ جمعیت علما اسلام صوبے کی ایک بہت بڑی سیاست قوت ہے اور عوام بھی جمعیت علما اسلام کے ساتھ ہے اور بلوچستان کے عوام نے ہمارے ہر احتجاج کو کامیاب بنایا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کو اغوا کیا جارہا ہے اور سیاسی و جمہوری جماعتوں کو اس لئے دیوار سے لگایا جارہا ہے کہ وہ سلیکٹڈ حکومت کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بی این پی کے رہنما کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اگر ایسا نہ کیاگیا تو بی این پی کے ساتھ ملکر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سلیکٹڈ حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی صوبے میں امن وامان کی صورتحال کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں یہ سلیکٹڈ حکمران صرف اپنے مفاد کی سیاست کرکے صوبے کو تباہی و بربادی سے دوچار کردیا ہے ۔
تین گزرنے کے باوجود نااہل حکمرانوں نے صوبے کے لئے کوئی میگا پروجیکٹ منظور نہیں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام اور پی ڈی ایم کے کارکن 2جنوری کو خضدار13جنوری کو لورالائی اور17جنوری کو نصیر آباد ڈویژن میں پی ڈی ایم کی جانب سے حکومت کے خلاف جو تحریک چل رہی ہے۔
ان کو کامیاب بنایا جائے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے مسائل کو غیرضروری طور پر وفاق کے حوالے کیا جارہا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں اور موجودہ حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گی۔