|

وقتِ اشاعت :   December 21 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء و بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ جن لوگوں نے میر جان محمد گرگناڑی کو اغوا کیا ۔

ان کو سردار اختر جان مینگل سے اور ان کے سیاسی موقف سے مسئلہ ہے وہ لوگ بی این پی رہنما میر جان محمد گرگناڑی کے اغوا کے پیچھے ہے سیاسی لوگوں کو اغوا کرنا یا ان کا قتل بلوچستان میں پہلی بار نہیں ہورہا ہے اس طرح کے حربے ہمیشہ سیاسی مخالفین کو خاموش کرنے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیںلیکن بلوچستان نیشنل پارٹی اس طرح کے بیکار ہتھکنڈوں سے گھبرانے والی نہیں ہے۔

بی این پی نے مارشل لا کے دوران اس طرح کے خراب حالات دیکھے ہیں لیکن اپنے ایجنڈے اور موقف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ساجد ترین نے مزید کہا کہ 22 دسمبر سے بی این پی ایک بار پھر اپنے احتجاج کا آغاز کرے گی۔

اور اس بار یہ بڑے پیمانے پر ہوگااگر بی این پی رہنما 22 دسمبر تک محفوظ طریقے سے رہا نہیں ہوتا ہے ساجد ترین نے کہا کہ بی این پی ایسے احتجاج سے بلوچستان کے عوام کو پریشان نہیں کرنا چاہتی لیکن ہم اپنے اغوا ہونے والے پارٹی رہنما کے لئے ایسے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں ہمیں امید ہے کہ میر جان محمد کو جلد رہا کیا جائے گا اور اس طرح کے حربے بند کردیئے جائیں گے۔