کوئٹہ: پبلک اکانٹس کمیٹی کے چیئرمین اختر حسین لانگو نے کہا ہے کہ جب پروجیکٹ بلیک لسٹ کمپنیوں کو دیا جاتا ہے تو اس پروجیکٹ کا اللہ ہی حافظ ہے ایسے تجربات سے گریز اور بلیک لسٹ کمپنیوں کو پروجیکٹس نہ دئیے جائیں، کسی بھی پروجیکٹ یا محکمے کی آڈٹ کے ساتھ ساتھ اس کی کارکردگی بہتربنانا بھی ہماری ذمہ داری ہے، شہریوں کو بنیادی سہولت پانی کی فراہمی ہمارافرض ہے۔
کنٹومنٹ بورڈ کے ذمے 10لاکھ گیلن پانی ہے لیکن محکمہ واسا اپنا 10لاکھ گیلن پانی کیوں وصول نہیں کررہا کیوسیپ پروجیکٹ کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں پی ڈی ایم بہت کم عرصے بعد تبدیل ہوجاتاہے۔
بدقسمتی سے نیٹ ورکنگ پہلے جبکہ سورس بعد میں ڈھونڈا جارہاہے ،انہوں نے ہدایت کی کہ سورس کی نشاندہی کے بعد نیٹ ورکنگ پر کام شروع کیاجائے،پہلے سیمنٹ کے بنے پائپس پھر لوہے اور بعد میں پی وی سی پائپس بچھائے گئے شہر میں جگہ جگہ پائپس ملتے ہیں۔
لیکن ان میں پانی نہیں ہوتا ان خیالات کااظہار انہوں نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کے کوئٹہ سپلائی اینڈ انوائرمنٹ ایمپرومنٹ پراجیکٹ کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر اراکین پی اے سی ثنا بلوچ، میرذابد علی ریکی ،نصراللہ زیرے ، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری پی ایچ ای صالح محمد ناصر، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ غلام سرور مندوخیل ، پروجیکٹ ڈائریکٹر کیوسیپ ومنیجنگ ڈائریکٹر واسا جہانزیب خان ودیگر بھی موجود تھے ۔اجلاس میں کیوسیپ کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دی گئی بریفنگ کے بعد کمیٹی نے کیوسیپ کے 10 کمپلائنس رپورٹ پر بحث کی۔
چیئرمین پی اے سی نے کہاکہ جب زیزوائر مکمل نہیں تو کوئٹہ کو پانی کیسے فراہم کی جائیگی کیوسیپ ایک پروجیکٹ جس کیلئے ٹیکنیکل شخص ہائیرکیاجاتاہے لیکن کروڑروپے کے پروجیکٹ کیوسیپ کیلئے اب تک پی ڈی کیوں ہائیرنہیں کیاگیاہے ،چیئرمین پی اے سی نے کہاکہ کیوسیپ پروجیکٹ کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں پی ڈی ایم بہت کم عرصے بعد تبدیل ہوجاتاہے۔
ہر12،3یا 9ماہ میں پی ڈی کو ہٹادیاجاتاہے ،ٹھوس وجوہات کی بنا پر پی ڈی کو تبدیل نہ کیاجائے ،اخترحسین لانگو نے کہاکہ کنٹومنٹ بورڈ کے ذمے 10لاکھ گیلن پانی ہے لیکن محکمہ واسا اپنا 10لاکھ گیلن پانی کیوں وصول نہیں کررہا کنٹومنٹ بورڈ کے ساتھ گیلن کی بجائے پرسنٹیج کے مطابق پانی وصول کیاجائے ،جس پر چیئرمین پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایاکہ دس لاکھ گیلن پانی کنٹونمنٹ بورڈ نے شہر کو دینا ہے۔
لیکن بورڈ کے ساتھ میٹنگ کے بعد اب 75 ہزار گیلن ہمیں مل رہا ہے چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی اخترحسین لانگو نے کہاکہ کوئٹہ شہر کوڈرلنگ کے بغیر پانی فراہم کرنے کا کوئی اور منصوبہ نہیں ہے ،ریزوائرز اب تک نہیں ،شہریوں کو بنیادی سہولت پانی کی فراہمی ہمارافرض ہے ہم نے ہر حال میں پانی کی فراہمی یقینی بنانی ہے ،کسی بھی پروجیکٹ یا محکمے کی آڈٹ کے ساتھ ساتھ اس کی کارکردگی بہتربنانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ سورس کی نشاندہی کے بعد نیٹ ورکنگ پر کام شروع کیاجائے بدقسمتی سے نیٹ ورکنگ پہلے جبکہ سورس بعد میں ڈھونڈا جارہاہے ،چیئرمین پی اے سی نے کہاکہ شہر میں جگہ جگہ پائپس ملتے ہیں لیکن ان میں پانی نہیں ہوتا پہلے سیمنٹ کے بنے پائپس پھر لوہے اور بعد میں پی وی سی پائپس بچھائے گئے ،سب سے زیادہ فیز بل جگہ کرخسہ ہے اس ڈیم پر کام کیاجائے۔
غلط جگہوں پر ڈیمز کی تعمیر عوامی فنڈز کی ضیاع ہے ،انہوں نے کہاکہ اخترآباد میں ڈیم بنانے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے غلط جگہ پر ڈیم کی تعمیر سے بارشوں کے بعد مذکورہ ڈیم میں ایک قطرہ پانی بھی جمع نہیں ہوا ،انہوں نے پی ڈی کیوسیپ کو ہدایت کی کہ پروجیکٹ سے متعلق ہر تین ماہ بعد پی اے سی کو کارکردگی رپورٹ پیش کیاجائے ،انہوں نے کہاکہ اگر پروجیکٹ بلیک لسٹ کمپنی کودیاجائے ۔
تو اس کا اللہ ہی حافظ ہوتاہے ،بدقسمتی سے پی سی ون کاپی پیسٹ سے بنتے ہے جو ہمیں معلوم ہے لہذا ایسے تجربوں سے گریز کیاجائے اور بلیک لسٹ کمپنیوں کو پروجیکٹس کی فراہمی بند کی جائے ۔
اس موقع پر رکن کمیٹی نصراللہ زیرے نے کہاکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے لوگوں کو پانی کا قلت کا شدید سامنا ہے ،دشت میں 8 اور 9 ٹیوب ویلز لگائے گئے لیکن زمینداروں کے قبضہ میں ہونے کی وجہ سے شہری اس سے مستفید نہیں ہو رہے ڈیپارٹمنٹ میں آیا اتنی پاور ہے کہ متعلقہ ٹیوب ویلوں اور واسا کی زمینوں سے قبضے کو چھڑایا جائے جس پرپروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایاکہ ڈیپارٹمنٹ اس سلسلے میں کام کررہی ہے ۔
اور بہت جلد قبضہ مافیا سے وگزار کرایاجائیںگے ،محکمہ واسا میں 2ہزار سے زائد ملازمین ہے ایم ڈی کو دوسرا چارج دیناناانصافی ہے ،کمیٹی ممبر ثنا بلوچ نے کہاکہ قبضہ واگزار کرانے کا معاملہ جتنا التوا کاشکار ہوگا اتناہی ڈیپارٹمنٹ کیلئے بڑا مسئلہ ہوسکتاہے ،جاب ڈسکرپشن کو ہی تبدیل کیاجائے اگر ٹیکنیکل شخص کوپروجیکٹ ڈائریکٹر نہیں رکھا جاسکتا۔