کوئٹہ: متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کے شاہی خاندان کے 11افراد تلور کے شکار کیلئے ضلع چاغی پہنچ گئے حکومت بلوچستان کی جانب سے 10 روز میں 100 تلور کے شکار کیلئے ایک لاکھ ڈالر بطور شکار فیس مقرر کی گئی ہے۔
تاہم اب تک کسی شاہی خاندان کی جانب سے شکار کی فیس کا چالان جمع نہیں کرایا گیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ عرب ملک سے تعلق رکھنے والے شاہی شکاری شیخ سلطان بن تہنون بن محمد النہیان کی قیادت میں خصوصی طیارے کے ذریعے دالبندین ایئرپورٹ پر پہنچے۔
جہاں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے چھوٹے بھائی سالار خان سنجرانی نے شاہی وفد کا استقبال کیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ یو اے ای کے شکاری پہلی مرتبہ چاغی آئے ہیں کیونکہ اس سے قبل انہیں شکار کے لیے نوکنڈی، تفتان اور سندیک کے علاقے دیے جاتے تھے۔
ایئرپورٹ پہنچنے پر سول اور عسکری حکام بھی شاہی شکاریوں سے ملے جس کے بعد انہیں سخت سیکیورٹی میں بذریعہ سڑک کچھ ناور کے علاقے میں ان کے کیمپ لے جایا گی ماراتی وفد میں شیخ سلطان بن تہنون النہیان، عارف محمد، محمد اسمعیل، محمد متر عبید دالموک، محمد سعید شووین، عید جوآن محمد الشمسی، راشد نائل رشید، عبداللہ عودھ سعید، عبدالستار، علی مصیبح مسہار، سعید عبدللہ احمد اور تنویر ضیا ڈار شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ وفد جس کے پاس شکار کے لیے سامان اور شاہین ہیں وہ ایک ہفتے کے لیے اس علاقے میں رکے گا۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ان کے اہلخانہ کے 14 دیگر افراد کو 21-2020 کے شکار کے موسم میں بین الاقوامی سطح پر محفوظ پرندے تلور کا شکار کرنے کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کیے تھے۔
اس سے قبل وفاقی حکومت نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی حکمران خاندان کے دیگر 2 اراکین کو سال 21-2020 کے شکار سیزن میں تلور کے شکار کا اجازت نامہ جاری کیا تھا ۔