کوئٹہ: پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیئر مین اختر حسین لانگو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان ملک نصیر احمد شاہوانی، نصراللہ زیرے، زابد علی ریکی، حاجی محمد نواز کاکڑ، زمرک خان اچکزئی ، ثناء اللہ بلوچ نے شرکت کی۔اجلاس میں لوکل گورنمنٹ اور کوئٹہ میٹروپولیٹن کے ساتھ کمپلائنس رپورٹ کا جائزہ لیاگیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ۔
چیئر مین پی اے سی اختر حسین لانگو نے کہا کہ 2013-14بجٹ اور اخراجات میں فرق پر محکمہ کی جانب سے کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی ہے کمیٹی نے 17 فروری کو محکمہ کو ٹائم دیا تھا لیکن آج محکمہ کی جانب سے پھر وقت مانگنا زیادتی ہے انہوں نے کہا کہ محکمے کی جانب سے پبلک اکائونٹس کمیٹی سنجیدیگی سے نہیں لیا جارہا جب پی اے سی کسی محکمے کو ریکارڈ جمع کروانے کا وقت دیتی ہے۔
تو متعلقہ محکمہ اجلاس کا انتظار کئے بغیر اسمبلی سیکرٹریٹ میں ریکارڈ جمع کروائیں کمیٹی نے محکمے کو انکوائری کا کہا لیکن محکمہ نے انکوائری نہیں کی کمیٹی محکمے کو ایک مہینے کا وقت دے رہی ہے محکمہ لوکل گورنمنٹ پی اے سی کے آئندہ کے اجلاس سے قبل اپنی رپورٹ جمع کروائے انہوں نے کہا کہ ایک مہینے بعد بھی اگر محکمہ نے ریکارڈ جمع نہیں کروایا تو پھر تیسری پارٹی سے ریکارڈ کی جانج پڑتال کروائیں گے۔
اختر حسین لانگو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہلوکل کونسل کو ترقیاتی اور غیر ترقیاتی فنڈ ایک ہی اکاونٹ میں جانا المیہ ہے اگر کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت ریکارڈ برقرار نہیں رکھ جا سکتا تو مینولی ریکارڈ برقرار رکھا جائے انہوں نے کہا کہ محکمہ ہمیں بتائے کہ اگر اکاونٹ کو سمجھنا انکے لئے مشکل ہے تو ہم انکے لئے کنسلٹینس ہائیر کر کے انھیں سمجھائیں گے۔
آفس کے ڈیلی ویجز ملازمین کا ریکارڈ گاڑی میں گھمانے اور پھر گاڑی کا چوری ہونا عجیب بات ہے آڈیٹر ایک دفعہ پھر محکمہ کا آڈٹ کریں انہوںنے کہا کہ محکموں کے اندر گاڑیوں کی مرمت کے لئے اگر اسٹاف موجود ہوتا ہے۔
تو پھر باہر سے گاڑیوں کی مرمت کرنے سے محکمہ اجتناب کرے محکمہ لوکل گورنمنٹ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس دو ماہ بعد خراب ہو جاتی ہے اور انکی قیمت 6000 ہے اور ہم اپنے گھروں کے لئے بازار سے 2500 روپے میں جو لائٹ خریدتے ہے۔
وہ سالوں چلتی ہے،چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے جناح کلاتھ مارکیٹ کے دکانداروں سے اب تک جو وصولی نہیں کی ہے وہ جلد از جلد کی جائے مٹن مارکیٹ، میزان مارکیٹ تھانہ روڈ کے دکانداروں سے بھی ریکوری کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ امداد ہسپتال کا کرایہ سالانہ دس ہزار اروپے ہے یہ زیادتی نہیں تو کیا ہے میٹر پولیٹن کے فارمولوں کا ہمیں پتہ نہیں چلتاجامع کلاتھ مارکیٹ کے دکانوں سے ماہانہ 8000 اور امداد ہسپتال سے 800 لینا ناانصافی ہیمیٹر پولیٹن نے ڈیڑھ لاکھ کی آبادی والے علاقے کو صرف تین ڈیلی ویجز ملازمین دئیے ہے۔
جو کہ ناکافی ہے اور کچھ علاقوں میں آبادی کم اور ملازمین زیادہ ہیں میٹرو پولیٹن مستقل ملازمین سے کام نہیں لے سکتا اور ڈیلی ویجز ملازمین سے میٹر پولیٹن کو چلا یا جارہا ہے امید کرتے ہیں کہ جو فیصلے یہاں ہوئے ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔