کوئٹہ: پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشریٰ رند نے کہا ہے کہ اپوزیشن جما عتوں کے اراکین اسمبلی سے مستعفی ہو ناچا ہے توہو جا ئیں تا ہم کو رونا سے متعلق اپوزیشن جما عتوں کا غیر سنجیدہ رویہ درست نہیں، کو رونا کی مو جو دہ صورتحال کو دیکھتے ہو ئے۔
اپوزیشن جما عتیں جلسے دو تین مہینوں تک ملتوی کریں منگل کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پا رلیمانی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ کورونا کی عالمی وبا پا کستان ہی نہیں پوری دنیا کے لئے بڑا چیلنج سے کم نہیں پی ڈی ایم میں شامل جما عتیں کورونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہی جو درست نہیں،انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جما عتیں سیاست ضرور کرے لیکن کو رونا کی صورتحال کو دیکھتے ہو ئے۔
دو تین مہینوں کے لئے جلسوں سے اجتناب منسوخ کرے، انہوں نے کہا کہ کو رونا کی حا لیہ لہر میںسب سے زیادہ اموات اسلام آباد اور پشاور میں ہوئی ہیں بلو چستان سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کلثوم پروین بھی اسی وائرس سے جاں بحق ہوئی بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب بھی کوروناکا شکا ر ہوچکے ہیں ۔
یہ وائرس امیراور غریب کا فرق نہیں دیکھتا اس لئے اس سے پیشگی بچا ئو کے لئے ضروری ہے کہ لو گ غیر ضروری طو ر پر گھروں سے نکلنے سے پرہیز کریں، انہوں نے کہا کہ ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 11بی ایچ کیوز کو فعال کر دیا گیا ہے جس سے عوام کو فائدہ پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ادوار میں کسی وزیراعلیٰ نے صو بے میںترقیاتی اسکیمات میں دلچسپی نہیں لی ہے۔
لیکن مو جو دہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ترقیاتی کام جاری ہیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کو ئٹہ میں ہو نے والے اسکوائش ٹورنامنٹ میں عالمی کھلاڑیوں سے حصہ لیا جس سے دنیا کو بلو چستان سے متعلق اچھا پیغام جائے گا بلوچستان ایک امن صوبہ بن چکا ہے۔
جس کے لئے سب نے کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے حالیہ دورہ صحبت پورکے موقع پر محسوس کیا گیا کہ سٹرکوں کا حالت ابتر ہے جسے بہتر کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جتنے میں ہا ئی گرلزاور بوائے اسکولز ہیں ان کو ڈگری کالجز کا درجہ دیا جائے گا۔ گوادر میں باڑ سے متعلق پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا تھا کہ باڑ گودار کی عوام کے جان و مال کی حفاظت اور باہر سے آنے والے سرمایہ کاروںکی سیکورٹی کیلئے لگایا جارہا ہے۔
جس کا مقصد صرف سیکورٹی کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا پا کستان میں سرجیکل اسٹرائیک کا منصوبہ بنارہا ہے جو بری طرح ناکام ہوگا ، بھارتی حکمرا ن انتخابات کیلئے ایسے منصوبے بنارہے ہیں مگر ہم بتا نا چاہتے ہیں کہ بھارت نے اب کے با ر غلطی کی تواسے 27فروری کی طرح منہ کی کھانی پڑے گی کیو نکہ انڈیا کے آگے صرف پاک آرمی ہی نہیں بلکہ عوام بھی کھڑی ہوگی۔
بشریٰ رند نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات کی ذمہ دار پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ہیں اسی لئے عوام نے پی ڈی ایم میں شامل جما عتوں کو ان کی کارکردگی کے بنیاد پر مسترد کردیا ۔
انہوں نے کہا کہ مولانا محمد شیرانی کے بیان سے ظاہر ہے کہ پی ڈی ایم اندر ہی اندر سے ٹوٹ رہا بلکہ اس کی تحریک ناکامی سے دوچار ہوگی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں شامل جماعتیں استعفوں کے شوشے سے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرت رہی ہیں۔
اگر ہمت ہے تو پی ڈی ایم میں شامل جما عتیںاسمبلیوں سے استعفیٰ دیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانافضل رحمٰن انتخابات کی ہار کو دل سے لگا کر بیٹھے ہیںانہوں نے کہا کہ بی ایم سی کے انٹری ٹیسٹ پی ایم سی نے لیے ہیں اس میں 40%سوالا ت دفاق جبکہ60فیصد بلوچستان کے تھے ۔غلط سوالات کی وجہ سے نتائج بھی غلط آئیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی طرح ہم بھی ان نتائج کو نہیں مانتے ۔