کوئٹہ: بلوچستان کے سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بلوچستان کے مسائل کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھر پور انداز میں اٹھانے کے عزم کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے ساحل وسائل پر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مرکز کے کسی بھی غیر آئینی اقدام کی بھر پور آواز بلند کی جائیگی گوادر باڑ اور جزائرکو مرکز کے ماتحت لانے کیخلاف سیاسی پلیٹ فارم کے علاوہ عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔
حکمران ہوش کے ناخن لیں عوام کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں باڑ سے لوگوں میں نفرت بڑے گی بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر کہدہ بابر گوادر سے متعلق اپوزیشن جماعتوں کے موقف کو مسترد کیا اور کہا کہ بلا جواز تنقید سے مسائل بڑھ رہے ہیں حکومت کی کوشش ہے کہ گوادر کو سیکورٹی کے حوالے سے محفوظ اورسر مایہ کاروں کو پر امن ماحول میسر آسکے ا ن خیالات کااظہار نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل،جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری،پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی حاجی میر علی مدد جتک ،اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر کہدہ بابر نے آن لائن سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا نیشنل پارٹی کے صدر وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک سے بلوچستان کے ایشوز بہتر انداز میں اجاگر ہورہے ہیں ۔
گوادر باڑ کیخلاف بی این پی ،پی ڈی ایم سمیت دیگر جماعتوں کے ساتھ ملکر بھر پور احتجاج کر کے اس سازش کو ناکام بنایا جائے گا بلوچستان نیشنل پارٹی نے صدر مملکت کے صدارتی آردیننس کیخلاف قومی اسمبلی میں قرارداد جمع کررکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بلوچستان کے جزائر کو مرکزی حکومت نے تحویل میں لے لیا ہے ۔
اور یہ غیر آئینی اقدام ہے نیشنل پارٹی گوادر کو الگ کرنے کے منصوبے کو رد کر تی ہے اس کیخلاف ہر پلیٹ فارم سے اس منصوبے کیخلاف بھر پور احتجاج کریگی ۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے جزائر اور گوادر باڑ لگانے جیسے حساس معاملات کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اٹھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اور اس حوالے سے ساجد ترین ایڈووکیٹ کی توسط سے گوادر میں اردگرد باڑ لگانے اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بلوچستان کے جزائر کو مرکز کے ماتحت لانے کے آرڈیننس کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ وفاق ایک بار پھر بلوچستان اور سندھ کے ساحلی پٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ یہ کس قسم کی ترقی ہے جو مقامی لوگوں کو اپنی سرزمین پر جانے سے روکتی ہے۔
یہ ترقی نہیں بلکہ استحصال ہے اور ہم اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ نے واضح کیا ہے کہ گوادر فروخت کے لئے نہیں ہے اور ہم کسی کو بھی بلوچستان تقسیم کرنے نہیں دیں گے۔ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری و سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہماری جماعت نے سندھ بلوچستان کے جزائر کو وفاق کے زیر ا نتظام لانے کے معاملے کو سینیٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سندھ بلوچستان کے جزائر کو وفاق کے زیر ا نتظام لانا ناقابل قبول ہے انہوں نے کہا کہ مذکورہ جزائر بلوچستان اور سندھ کی ملکیت ہے بلوچستان اور سندھ کے عوام صدارتی آرڈیننس کومسترد کرتے ہیں اپوزیشن اور حکومتی جماعتیں جزائر سے متعلق قانون سازی اور گوادر کی نگرانی کے منصوبے پر ایک دوسرے کے برعکس موقف رکھتی ہے گوادر بلوچستان کا اٹوٹ ہنگ ہے۔
گوادر باڑ لگانے جیسے حساس معاملات کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھر پور آواز اٹھائینگے ۔پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر حاجی علی مدد جتک نے کہا ہے کہ سی پیک اور گوادر کامنصوبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں شروع ہوا موجودہ سلیکٹڈ حکمرانوں کے غلط فیصلوں سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے بلوچستان اور سندھ کے جزائر کو وفاق کے زیر تسلط لانے کے ساتھ ساتھ گوادر میں باڑ لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔
جس سے بلوچستان کے لوگوں میں نفرت پائی جارہی ہے حکمرانوں کو ہوش کے ناخون لینے چاہیے بلوچستان کی سرزمین پر ان کے فلاح وبہبود اور روزگار کیلئے بننے والے منصوبے سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور گوادر میں لگائی جانے والی باڑ سیکورٹی خدشات کا نام دے رہے ہیں حالانکہ پہلے بھی گوادر میں یہی مقامی لوگ ساحل سمندر اور دیگر مقامات پر ماہی گیری سمیت دیگر روزگار کے زرائع کما کر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پال رہے ہیں ۔
پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں لوگوں کو لاکھوں کی تعداد میں روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اٹھارویں ترامیم کے تحت صوبائی خود مختاری صوبوں کو دی گئی ہے پیپلز پارٹی بلوچستان کے حقوق اور وسائل پر عوام کے حق وحاکمیت کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کریگی اور ہر فورم پر آواز اٹھائیگی۔بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر کہدہ بابر نے کہاہے کہ اپوزیشن جماعتیں بلا جواز گوادر باڑ کو ایشو بنارہی ہے۔
اور لوگوں کو اکسانے کی کوشش بند کی جائے فینسنگ کا بنیادی مقصد گوادر آنے والے سرمایہ کاروں کو پر امن ماحول کی فراہمی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی گوادر میں 4چیک پوسٹوں سے گزر کر آنا پڑتا ہے حالانکہ گوادر کو 18سے19داخلی راستے لگتے ہیں گوادر کی سیکورٹی کو فل پروف بنانے کیلئے یہ اقدام اٹھا یا ہے اورفینسنگ کے بعد تمام آمد ورفت روڈ کے داخلی راستوں سے ہوگی۔
اور اس وقت موجودہ صورتحال میں عارضی بنیادوں پر فینسنگ کو بنا یا جارہا ہے حالانکہ ماسٹر پلان کے مطابق گوادر کے سیکورٹی کو ہر لحاظ سے یقینی بنا نا ہے اپوزیشن اور پی ڈی ایم کی جانب سے بلا جواز گوادر کی فینسنگ کو اچھا لا جارہا ہے کہ محسوس کریں کہ اس سے علاقے کی ترقی روک جائیگی اور یہ سیاسی ایشو بنا کر مقامی لوگوں کو اکسا کر حالات کو خرابی کی جانب لے جانا چاہتے ہیں ۔