کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کی توسط سے گوادر باڑ اور جزائر کو مرکز کے ماتحت لانے کے صدارتی آرڈیننس کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
بی این پی کے مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل نے ساجد ترین ایڈووکیٹ کی توسط سے گوادر میں اردگرد باڑ لگانے اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بلوچستان کے جزائر کو مرکز کے ماتحت لانے کے آرڈیننس کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اس سلسلے میں مشاورت کے بعد ساجد ترین ایڈووکیٹ بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کریں گے۔
ذرائع کے مطابق سردار اختر جان مینگل نے اپنے کونسل ساجد ترین ایڈووکیٹ کے ہمراہ خود عدالت میں پیش ہونے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ گوادر باڑ اور صوبائی حکومت کے ماتحت جزائر کو وفاقی حکومت کے ماتحت لانے کے فیصلے کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل واضح موقف اختیار کیا ہے کہ وفاق ایک بار پھر بلوچستان اور سندھ کے ساحلی پٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔
یہ کس قسم کی ترقی ہے جو مقامی لوگوں کو اپنی سرزمین پر جانے سے روکتی ہے۔ یہ ترقی نہیں بلکہ استحصال ہے اور ہم اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ نے واضح کیا ہے کہ گوادر فروخت کے لئے نہیں ہے اور ہم کسی کو بھی بلوچستان تقسیم کرنے نہیں دیں گے۔ دریں اثناء بلوچستان بار کونسل نے گوادر میں باڑ لگانے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی ۔
گزشتہ روز بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین منیر احمد کاکڑ کی جانب سے گوادر میں فینسنگ کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواست میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ گوادر شہر کو باڑ کے ذریعے الگ کرنا آئین پاکستان میں لوگوں کو دئیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،گوادر شہر کی 3 لاکھ آبادی ہے۔ باڑ لگانے کے بعد ایک لاکھ آبادی اندر اور 2 لاکھ باہر رہ جائے گی مگر اس دو لاکھ آبادی کے سارے تعلیمی ادارے۔
اسپتال، کاروبار اور دفاتر اندر ہوں گے۔ بچوں کو اسکول جانے میں مشکل ہوگی، کاروباری طبقے کو تجارت اور ملازمین کو آمدورفت میں رکاوٹ ہوگی۔مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ باڑ مکمل ہونے کے بعد شہر میں داخل ہونے کیلئے چھاونیوں کی طرح پاس بنوانا پڑے گا۔ اس وقت کوئٹہ اور ملیر کینٹ سمیت دیگر چھاونیوں میں پیشگی اجازت لینے کے بعد شناختی کارڈ جمع کروانا پڑتا ہے۔
اور پھر داخلی دروازے پر معقول وجہ بتاتے ہوئے ٹوکن لیکر اندر جانا پڑتا ہے۔لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ غیر آئینی اقدام باڑ کامنصوبہ روکنے کیلئے احکامات دیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے 28 دسمبر کو سماعت کیلئے مقرر کردی۔واضح رہے کہ متعلقہ حکام کے مطابق سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے باڑ لگائی جارہی ہے۔
مگر اس ناقدین کا کہنا ہے کہ باڑ لگانے سے شہر دو حصوں میں بٹ جائے گا۔ دیہی حصہ شہر سے کٹ کر رہ جائے گا اور مقامی لوگوں کو آمدروفت میں مشکلات پیدا ہوں گی۔گوادر شہر پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکز مانا جاتا ہے اور یہاں چین کے تعاون سے اربوں ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے تاہم یہاں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں حکام کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔