|

وقتِ اشاعت :   December 26 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنمانوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا سودا کرکے اقتدار حاصل کرنے والے صوبے کے عوام کے نمائندے نہیں سلیکٹڈ صوبائی حکومت سلیکٹرز کے ایجنڈے کو لیکر آگئے بڑھ رہی ہے ۔ یہ بات انہوں نے بلوچستان کے ضلع خضدار سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کرکے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج پر بیٹھے۔

لیویزامیدواروں سے یکجہتی کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہی اس موقع پرپارٹی رہنماٹکری شفقت لانگو، چیئرمین واحد بلوچ، قاری اختر شاہ کھرل، حاجی رحیم ترین ودیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔

نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان کے ضلع خضدار سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کرکے یہاں پریس کلب کے سامنے دھرنا دیئے بیٹھے لوگوں سے مذاکرات کرکے جائز مسئلہ کے حل کی یقین دہانی کرائے تاہم لانگ مارچ اور احتجاج کو 17 دن گزرجانے کے باوجود سلیکٹڈ صوبائی حکومت نے مذاکرات پر توجہ نہیں۔

کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت کو صوبے کے ساحل وسائل رسم ورواج کا سودا کرکے ڈنڈے کے زور پر اقتدار میں لایا گیا ہے اس لیے یہ لو گ مذاکرات کے عادی نہیں ہیں ۔

انہوں نے لانگ مارچ کے شرکاکو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ان کے جائز مطالبات کی نہ صرف حمایت کرتی ہے بلکہ پارٹی کے وکلامتاثرہ امیدواروں کو ہر ممکن قانونی معاونت فراہم کریں گے ۔ انہوں نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ لیویز کی آسامیوں پرشفاف طریقے سے تعیناتیاں عمل میں لائی جائیں۔