|

وقتِ اشاعت :   December 26 – 2020

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نزیر بلوچ نے گوادر میں باڑلگانے کے منصوبے کو بنیادی انسانی حقوق و آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ دشمنی،وسائل کی لوٹ مار و نوآبادیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے طاقت ورطبقہ مکمل طور پر بلوچ قوم کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہے بلوچ قوم نے حقیقی ترقی کی کبھی مخالفت نہیں کی ہے۔

لیکن ترقی کے آڑ میں بلوچ قوم کو صفہ ہستی سے مٹانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی سائل سمندر اور جزائر کو کاٹ کر بلوچستان کو تقسیم کرنے کی سازش کسی صورت کامیاب نہیں ہوسکتی سیاسی مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے۔

گوادر و جزائر و بلوچستان کے تمام آبی و معدنی وسائل پر حق حاکمیت بلوچ قوم کا حق ہے زنجیر لگا کر گوادرکو بلوچستان سے کاٹا جارہا ہے دوسری جانب طاقت کا استعمال اس قدر تیز کی جاچکی ہے کہ عوام کوبنیادی حقوق و اپنے پیاروں کے لئے ماتم کا حق تک نہیں دی جارہی ہے۔

سیاسی اداروں میں خوشآمدی لوگوں کو بٹھا کر کرپشن کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے تاکہ حقیقی سیاسی کارکن کو انتہا کی جانب لے جا کر بلوچ قوم کو دہشت گرد و غدارقرار دے کر نسل کشی کو جاری رکھا جاسکے حقیقی ترقی تعلیمی اداروں کے قیام لوگوں کو انکے بنیادی۔

انسانی حقوق کی فراہمی اظہار رائے کی آزادی سے ممکن ہے لیکن طلبا کو تعلیمی اداروں میں شعوری سرگرمیوں کی اجازت تک نہیں دی جارہی ہے منفی اوچھے ہتھکنڈوں کے خلاف بلوچ قوم کے تمام مکاتب فکر کو ہم آواز ہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے گوادر میں باڑلگانا بلوچ قوم کیموت و زیست کا مسئلہ ہے اس پر کسی صورت خاموش نہیں رہنگے ۔