خضدار: بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے گوادر میں باڑ لگانے ساحلی علاقوں جزائر کو وفاقی حکومت کے زیر انتظام کرنے کے خلاف خضدار میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکا شہر کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے۔
جہاں پر مظاہرین سے ضلعی صدر شفیق الرحمان ساسولی مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری جنرل لعل جان بلوچ بی این پی کے سنیئر رہنما خالد محمد ایڈوکیٹ ضلعی جنرل سیکریٹری عبدالنبی بلوچ بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی کے ممبر حفیظ بلوچ تحصیل خضدار کے صدر سفر خان مینگل جنرل سیکریٹی ڈاکٹر محمد بخش مینگل بلوچ یکجہتی کونسل کے رہنما جاوید بلوچ محمد ایوب عالیزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر قبضہ گیریت کوئی نئی بات نہیں ۔
ماضی میں بھی بلوچستان کے ساحل وسائل پر قبضہ جمانے کی ہرممکن کوشش کی گئی اس بار بھی گوادر کو باڑ لگا کر وہاں کے مقامی آبادی کو محصور کرنے اور گوادر کوایک الگ خطہ بنانے کی سازش کی جا رہی ہے لیکن حکمران یاد رکھیں گوادر بلوچستان کا شہہ رگ ہے گوادر کو باڑ لگا کر الگ کرنے کا منصوبہ ہم کسی صورت قبول نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ گوادر کو باڑ لگانے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ نہ صرف بے روزگار ہوجائیں گے ۔
بلکہ ان کی بقا کو بھی کو بھی خطرات لاحق ہونگے مقررین نے کہا کہ مقامی آبادی کو کو اقلیت میں بدلنے کے لئے غیر مقامی لوگوں کو ڈومیسائل اور شناختی کارڈ بھی دیئے جا رہے ہیں تاکہ یہاں نو آبادیاتی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم اپنی تشخص اور بقا ئو سلامتی کے لئے ایسے تمام حربے ناکام کرے گی جس سے ہماری بقا کو خطرات لاحق ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بلوچستان میں جہاں جہاں وسائل ہیں وہاں کے لوگوں کو دیوار سے لگانے اور ان پر زمین تنگ کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ہیں ماضی میں مردوں کو نشان عبرت بنایا جاتا اب خواتین کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے بلوچ خاتون کریمہ بلوچ پر بھی زمین تنگ کرکے اسے ملک بدر کرنے پر مجبور کیا گیا لیکن وہاں پر بھی اس کو معاف نہیں کیا گیا ۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کریمہ بلوچ کی قتل واقع پر خاموشی کی بجائے کینیڈا کی حکومت سے بات کرے اور واقع میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گوادر میں باڑ لگانے اور غیر مقامی افراد کی آباد کاری کو روکے ورنہ بلوچ قوم اپنے ساحل و وسائل کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کریگی احتجاجی ریلی۔
اور جلسے میں آغا سید سمیع اللہ شاہ محمد اکبر جتک غلام نبی ایڈوکیٹ سردار زادہ میر خلیل احمد موسیانی میر منیر احمد ساسولی ایڈوکیٹ بشیر احمد میراجی مینگل چیف رحمت اللہ اور دیگر نے شرکت کی دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کال پر بلوچستان نیشنل پارٹی مستونگ کے زیراہتمام گوادر کو بلوچستان سے الگ کرنے اور باڑ لگانے اور بلوچستان کو تقسم کرنے کے سازشوں کے خلاف سراوان پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔
احتجاجی مظاہرے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی نظرجان ابابکی سنٹرل کمیٹی کے رکن ملک عبدالرحمن خواجہ خیل جنرل سیکرٹری جمیل بلوچ سینئر نائب صدرمیراورنگزیب قمبرانی نائب صدر میر جنگی خان سرپر،،بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے رکن جہارنگیرمنظوربلوچ ضلعی خواتین سیکرٹری اسماء منظوربلوچ محمداکرم لودھی ڈپٹی جنرل سیکرٹری چئرمین قدیدمحمدحسنی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
کہ موجودہ سلیکٹڈ حکمرانوں نے گوادر کو باڑ لگانے کا عمل شروع کرکے بلوچستان سے الگ کرنے کی گہری سازش شروع کردی ہیاور گوادر کو بلوچستان کے عوام کیلئے نو گو ایریا بنارہیہیں انھوں نے کہاکہ بلوچستان کو جنوبی و شمالی کی سازش بلوچستان کو تقسیم کرنے مزموم کوشش کیاجاریاہیں جس کا سخت الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور نااہل اور سلیکٹڈ حکمرانوں کے بلوچستان اور بلوچ قوم کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائینگے۔
مقررین نے کینیڈا میں بلوچ قوم پرست رہنماء بانک کریمہ بلوچ کو شہید کرنے کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بانک کریمہ بلوچ ایک سیاسی کارکن اور بلوچ قوم کی بیٹی اور بہین انکا کینیڈا جیسے انسانی حقوق کے علمبردار ملک میں قتل کئی سوالات جنم دیرہاہیں اور بلوچ قوم کو بانک کریمہ بلوچ کے قتل پر سخت تشویش ہے اور ہم عالمی انسانی حقوق کے تنظیموں اور اقوام متحدہ سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
مقررین نے مزید کہاکہ موجودہ سلیکٹڈ حکمران سابقہ حکمرانوں ڈکٹیٹروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سابقہ قبضہ گیری پالیسوں پر عمل پیرا ہیں اور بلوچستان کو بلوچ قوم کیلئے اب نوگو ایریا بنانے کی سازشوں میں تیزی لائی جارہی ہیں اور گوادر کو باڑلگانا جنوبی و شمالی کا نعرہ لگانے کا مقصد ہی بلوچ قوم کو انکے ساحل و وسائل محروم کرنے کی سازش ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے اکابرین 74سالوں سے بلوچ قومی حق وحقوق کی جدوجہد کررہی ہیں اور کرتی رہیگی ہمیں کسی صورت میں بھی اپنے حق و حقوق کے جدوجہد سے دستبردار نہیں کیاجاسکتا۔انھوں نے کہاکہ موجودہ سلیکٹڈ حکمرانوں کی یہ بول ہیکہ وہ بلوچ قوم کو بزور طاقت انکے وسائل کے حدوجہد سے دور کرینگے بلوچ قوم بلوچ سرزمین کے خلاف ہونے والے ہر سازش کو ناکام بنائینگے۔
دریں اثناء بی این پی کے مرکزی کال پر گوادر میں باڑ لگانے کے خلاف پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا احتجاجی مظاہرہ میں بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری احمد نواز بلوچ میرسہراب خان مینگل عبدالعلیم مینگل وڈیرہ رحیم مینگل بی ایس او کے سابق صدر ثنااللہ مینگل عبدالمنان عالیزئی اور بی این پی کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تے انہوں نے کہا کہ گوادر کے عوام کو اقلیت میں تبدیل گوادر کو وفاق میں شامل کرنے اور گوارد میں باڑ لگا کر مکمل عوام کیلئے سیل کیاجارہا ہے۔
بی این پی کسی صورت برداشت نہیں کرینگی اور اس کی بھرپور مزمت کرتی ہے ۔دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی بیلہ اور پی ڈی ایم بیلہ کی جانب سے گوادر باڑ کے خلاف مشترکہ احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا کر بازار کا گشت کیا تفصیلات کے مطابق بی این پی اور پی ڈی ایم بیلہ کی جانب سے گوادر باڑ کے خلاف مشترکہ احتجاجی ریلی باڑا باغ چوک سے نکالی گئی۔
جس کی قیادت بی این پی کے جرنل سیکرٹری ایڈووکیٹ عاصم کاظم رونجھو پی ڈی ایم بیلہ کے صدر و جے یو آئی تحصیل بیلہ کے امیر مفتی محمد نعیم ترجمان یوسف راہی نیشنل پارٹی کے ممبر صوبائی کونسل واحد بلوچ و دیگر نے کی ریلی کے شرکاء نے بینرز ہاتھوں میں اٹھاکر شہر کی مختلف شاہراہوں کا گشت کرتے ہوئے شہید بے نظیر چوک پہنچی جہاں پر مقررین نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا ۔
مقررین نے خطاب میں گوادر کو باڑ لگانے کی شدید الفاظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کو باڑ لگانا بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے مترادف قراد دیا مقررین نے مقامی مسائل لیویز بھرتیوں میں اقرباء پروری بی سی اہلکاروں کو اپنے ضلع پولیس میں ضم کرنے کا بھی مطالبہ کیا احتجاجی ریلی کے شرکاء نے گوادر باڑ کے خلاف نعرے بازی کی اور گوادر باڑ منصوبے کو فوری مسترد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
ریلی میں بی این پی کے رہنما جمیل احمد گچکی بشیر محمودانی نیشنل پارٹی کے جہانگیر یوسف پی پی کے ستار کماچہ محبوب شاہ بی این پی کے سعد کاظم گل جان ساسولی قاسم چنا رحیم بخش لاسی ہاشم لاسی رسول خان عزیز نثار رونجھو سمیت بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔