کوئٹہ: پاکستا ن مسلم لیگ(ن) کے رہنماء سابق صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ ڈی ایچ اے ایک اچھا منصوبہ ہے جس سے کوئٹہ میں ہائوسنگ کے شعبے میں بہتری آنے کے ساتھ ساتھ اسکی کامیابی سے دوسری ہائوسنگ اسکیمیں بھی کوئٹہ کا رخ کریں گی ، ڈی ایچ میں زمین کے حصو ل کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا۔
اس کے خلاف عدالتی فیصلے آنے سے منصوبے کو نقصان پہنچا ،حکومت کوئٹہ میں لینڈ مافیا کے گرہوں کے خلاف کاروائی کرکے شہر کو خانہ جنگی سے بچائے۔ یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی، شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ڈی ایچ اے ایک اچھی سہولت ہے جسے ہم نے خود کابینہ میں ویلکم کیا تھا اور کہا تھاکہ ڈی ایچ اے پلانڈ ہائوسنگ اسکیم ہے۔
اس سے کوئٹہ شہر میں ہائوسنگ کے شعبے میں بہتری آئیگی ساتھ ہی دیگر ہائوسنگ اسکمیں بھی یہاں کا رخ کریں گی جس سے کوئٹہ شہرمیں معیاری ہائوسنگ کے منصوبے بنیں گے انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں ہماری کابینہ نے ڈی ایچ اے کا ایکٹ منظور کیا لیکن جب صوبائی اسمبلی میں ایکٹ پیش کرنے سے قبل اس میں ترمیم کی گئی تو میں نے بتایاتھا جو اختیار ڈی ایچ اے کو دیا جارہا ہے۔
وہ صوبائی اسمبلی کے دائرکار میں نہیں اسکے لئے قومی اسمبلی سے آئین میں ترمیم کی ضرورت پڑیگی ہماری رائے تھی کہ جس طرح ڈی ایچ اے کو دیگر صوبوں میں چلایا جارہا ہے اسی طرز پر یہاں پر بھی لایا جائے۔
تاہم میری بات کو نظر انداز کیا گیا اور عجلت میں ڈی ایچ اے کا قانون منظور کیا گیا جسے عدالت نے قانونی نقائص کی بنا پر کالعدم قرار دیا ہے اس عجلت سے ڈی ایچ اے اسکیم کو نقصان پہنچا ہے اگر ایسا نہ کیا جاتا ہو آج کوئٹہ میں ڈی ایچ اے کو جو نقصان پہنچا یہ نہیں ہوتا ۔شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں لینڈ مافیا مختلف نا م استعمال کر کے قبضہ کر رہا ہے۔
جسکی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے لوگ نجی گارڈز رکھنے پر مجبور ہیں جسکی سرکار اجازت نہیں دیتی اگر سرکار نے فوری طور پر لینڈ مافیا کو اپنی گرفت میں نہیں لیا تو شہر میں خانہ جنگی کا بھی اندیشہ موجود ہے۔