پنجگور: نیشنل پارٹی پنجگور کے ضلعی صدر حاجی صالح بلوچ، ضلعی جنرل سیکرٹری واجہ محمد صدیق بلوچ، ڈپٹی جنرل سکریٹری منظور احمد بلوچ ، تحصیل پروم کے صدر محمد عالم سنجرانی مرکزی کونسلر حاجی عبدالقدوس شمبیزی اور تحصیل پنجگور کے ڈپٹی جنرل سکریٹری محمد صادق رھچار نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں سلیکٹیڈ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی ایماء ۔
پر گوادر میں باڈ لگانے کے بعد سرحدی علاقوں خصوصا مکران میں ایرانی تیل پر پابندی کے فیصلے کو بلوچستان بلخصوص مکران کے غریب عوام کی معاشی قتل قرار دیتے ہوئے اسکی شدید الفاظ میں مزمت کی وفاقی اور صوبائی حکومت عوام کو روزگار اور سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے بلوچ عوام کے خلاف پے درپے وار کرکے عوام کو مجبور کررہا یے کہ وہ دوسرا راستہ اختیار کرکے ریاستی۔
اداروں کو موقع ملے کہ وہ بلوچ قوم کی نسل کشی کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ایک طرف روزگار کا دروازہ بند کردیا گیا ہے دوسری طرف بارڈر کو سیل کرکے بلوچ عوام سے نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے مکران کے عوام کا زرائع معاش زیادہ تر تعلق ایرانی بارڈر سے وابستہ ہے جو بڑی مشکل سے اپنا گزر بسر کرکے زںدگی کی پیہہ کو چلاتے ہیں لیکن اب سلیکٹیڈ حکومت اپنی لائے گئے سلیکٹیڈ نمائندوں کی موجودگی میں عوام کی معاشی قتل میں براہے۔
راست حصہ ڈال کر عوام کی زندگیاں اجیران بنا دیا گیا یے انہوں نے کہا کہ اس وقت مکران ڈویڑن میں کسی بھی علاقے میں پاکستانی پیٹرول پمپ اور پاکستانی تیل کا کسی بھی علاقے میں کوئی وجود نہیں ہے پاکستانی تیل کی سہولت فراہم کرنے کے بجائے ایرانی تیل پر پابندی صریآ عوام کو نان شبینہ کے مترادف ہے۔
مکران سے تعلق رکھنے والے سلیکٹیڈ وزراء اور نمائںدوں کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مکران کے عوامی نمائندوں عوام دشمن پالیسیوں پر چھپ کا روزہ رکھ کر عوامی جرم کا مرتکب ہورہے ہیں انکا کردار عوام دشمنی پر مبنی ہے جو اپنی چھوٹی سے مراعات اور اقتدار کے نشے میں دھت خاموشی سے عوام کی معاشی قتل کررہے ہیں چیف سکیرٹری کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن صوبائی حکومت اور صوبائی وزراء کے ایماء اور اشیر باد سے ممکن نہیں ہے ۔
چیف سکیرٹری کی نوٹیفکیشن مکران کے صوبائی وزراء کی منہ پر تھمانچہ ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کو بلوچوں سے بے دخل کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے نیشنل پارٹی ایرانی تیل پر پاپندی کی مزمت کرتے ہوئے اس عمل کے خلاف عوامی رائے کو منظم کرکے بھر سیاسی مزاحمت کریگی۔