تربت: نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن انجنیئر حمید بلوچ نے کہا ہے کہ باپ حکومت کی جانب سے بلوچستان میں ڈیزل کی کاروبار کو غیر قانونی قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی گئی ہے اور ڈیزل و پٹرول کاروبار کرنے والوں پر ایف سی (FC) کو سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ جو بلوچستان کے لوگوں پر سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔
اس کٹ پتلی باپ گورنمنٹ نے پہلے سے یہاں کے لوگوں کا جینا محال کردیا ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روز گاری سے لوگ تنگ ہیں۔ ایرانی ڈیزل سے بلوچستان کے لاکھوں لوگ منسلک ہیں جن کا ذرائع معاش ہے اور انکے گھر کے چولہے اسی سے جلتے ہیں۔ ڈیزل پر پابندی عائد کرنے سے مکران سمیت اور دوسرے علاقوں میں غربت اور بھوک کی شرح مزید بڑھی گی۔
اس سے علاقے میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ صوبائی نااہل حکومت فوری طور پر اس عوام دشمن فیصلے کو واپس لے، نیشنل پارٹی عوام کو لیکر سڑکوں پر آجائے گی۔ بلوچستان میں بیروزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے دوسرے صوبوں سے آگے ہے۔ مگر ان ظالم حکمرانوں نے یہاں کے مظلوم عوام کو کچھ دینے کے بجائے چیننے پر لگے ہوئے ہیں۔
چالیس ہزار خالی آسامیوں کو پر کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئے ہیں اور ڈہائی سال میں ان کی کارکردگی زیرو ہے۔ یہ صرف کرپشن اور اپنے آقاووں کو خوش کرنے کیلئے اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔