نوکنڈی: پاک ایران سرحد پہ واقع تجارتی گیٹ زیروپوائنٹ پہ دو طرفہ کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے سے علاقہ مکین نان شبینہ کے محتاج بن گئے ہیں ،تفصیلات کیمطابق ایرانی حکام کی جانب سے چار مہینے سے نامعلوم وجوہات کی بناء پر تجارتی گیٹ زیرو پوائنٹ کو بند رکھا گیاہے جس سے علاقے میں تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں ہے۔
اور لوگ نان و شبینہ کے محتاج ہو کر رہ گئے،زیرو پوائنٹ کی بندش سے علاقے میں اشیاء کوخوردنوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے ،مزدوروں کے علاوہ تاجر برادری سمیت دکانداروں نے اپنے آبائی علاقوں کا جبکہ مقامی آبادی کے اکثریت نے روزگار کی حصول کیلئے دوسرے شہروں کا رخ کرنے پہ مجبور ہیں اوریہاں تک سبزی فروش،گیراج والے،ہوٹلز،ٹرانسپورٹ،نانبائی ،دکاندار مسلسل زیروپوائنٹ کی بندش سے بری طرح متاثر ہیں زیرو پوائنٹ بندش پہ یہاں کے تاجر برادری ،عوامی اور سیاسی حلقوں نے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔
لیکن تاحال زیرو پوائنٹ پہ کاروباری سرگرمیاں بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے مقامی انتظامیہ بھی زیروپوائنٹ کی بندش پر سرکاری سطح پر بھی کوششیں کررہی ہے اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ زیرو پوائنٹ کی بندش کے حوالے سے ایرانی آفیسران سے بات چیت ہوا اور یہاں کے کاروباری عوام کی مشکلات سے آگاہ کیا گیا نیشنل پارٹی کے صوبائی لیبر سیکرٹری سردر رفیق شیر سنجرانی بلوچ نے کہا کہ زیر وپوائنٹ کی بندش سے چار اضلاع کے تجارتی حلقوں سمیت عام شہری متاثر ہیں کیونکہ زیر و پوئنٹ سے یہاں کے لوگ معمولی کاروبار کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔
لیکن گزشتہ چار مہینوں سے زیروپوائنٹ کی بندش سے علاقے مین بیروزگاری کی شرح میں بے پنہاں اضافہ ہوا ہے اور لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں انہوں نے کہا زیروپوائنٹ نہیں کھولا گیا ۔
تو یہاں کے تاجربداردی اور علاقہ مکینوں کیساتھ ملکر احتجاج سے گریز نہیں کیا جائیگا ،علاقہ مکینوں،تاجر برادری ،دکانداروں نے ایرانی و پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ زیرپوائنٹ پہ کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے میں کردار ادا کرکے یہاں کے عوام کی مشکلات میں کمی لائی جائیں۔